Category Archives: miscellaneous

میری ماں

میری ماں
میں بیمار تھا ، بخار تھا غالباً۔لیکن مجھ زیادہ آنکھیں میری ماں کی کھچی ہوئی تھیں کیوں مجھے تو اس نے سلا دیا تھا اور خود ساری رات میرے سرہانے بیٹھی رہی تھی…… کبھی سر دباتی کبھی پانی کا پوچھتی کبھی دعائیں پڑھ کے پھونکتی اور بجلی چلی جاتی تو پنکھا جھلتی۔
شاید تھکاوٹ اور نیند کی شدت سے ہی ان کھچی ہوئی آنکھوں میں سرخ شریانیں بھی نمودار ہورہیتھیں۔ یا شاید باورچی خانے کے دھوئیں کا اثر تھا کیونکہ میرا ناشتہ میرے اٹھنے سے پہلے تیار تھا۔
اپنا سراپا مجھے ایک مقناطیسی وجود معلوم ہورہا تھا کہ جس کے محور سے ماں نکل ہی نہیں پا رہی تھی۔ کبھی دروازے سے پردہ سرکا کے مجھے دیکھتی… کبھی دبے پاؤں کچھ پڑھ کے پھونک جاتی…… ماں ہے ناں بھلا رہا جاتا ہے اس سے اپنی اولاد کو چھوئے بغیر جس بے مثال ممتا سے وہ ملاطفت سے پُر دست شفقت میرے گال کی جانب بڑھتا میں اسے بند آنکھوں سے بھی دیکھ سکتا تھا۔
آہ………… وہ گداز دست شفقت……
وہ ٹھنڈک… وہ سکون… دنیا کی ساری راحتیں ایک طرف اور ماں کا وہ

محبت سے لبریز…گداز…دست شفقت و رحمت ایک طرف…
میں بے خوف و خطر گھر سے نکلتا ہوں گاڑیوں میں بیٹھتا ہوں بازاروں میں چلتا ہوں کیوں کہ میرے گرد میری ماں کی دعاؤں کا حصار ہے۔
اپنی کسی بھی کامیابی کی اطلاع دینے کے لیے جب بھی ماں کو فون کیا تو ہمیشہ فون کسی بہن بھائی نے اٹھایا اور جواب ملا کہ:
’’امی نفل پڑھ رہی ہیں‘‘
ہماری ماں کا ہمیشہ سے یہ طریقہ کار رہا ہے کہ جب بھی ہم امتحان دینے جاتے ہیں تو وہ تقریباً سارا وقت پیچھے نوافل ادا کرتی رہتی ہیں۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک بڑا اہم پرچہ تھا اور میں سوالنامے سے ہمیشہ کی طرح مکمل اجنبیت کا اظہار کررہا تھا۔ لیکن اس بار مختلف یہ تھا کہ ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد بھی میں کوئی سوال حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔ کوئی ایسی دعا نہیں تھی جو مجھے آتی تو تھی لیکن میں نے پڑھی نہ تھی ۔ قوت مشاہدہ ایسی تیز ہوئی ہوئی تھی کہ کمرہ کی ہر چیز کا محل و وقوع حفظ ہوچکا تھا۔ غالباً 9 بجے کے قریب میں نے قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا اور کافی حد تک پرچہ حل کرلیا۔ نتیجہ نکلنے پر اس پرچہ میں کامیاب بھی ہوگیا۔ جب گھر آیا تو ماں نے بتایا کہ آج پرچہ کا وقت صحیح یاد نہیں تھا اس لیے نوافل 8 بجے کی بجائے 9بجے ادا کرنے شروع کیے۔ میں نے کہا امی جان شکر ہے آپ کو ایک گھنٹہ کا ہی مغالطہ ہوا ورنہ اگر آپ یہ سمجھتیں کہ پرچہ دوپہر کو ہے تو مجھے تو بس صفائی کے نمبر ہی ملنے تھے۔

ایک لمبے عرصہ تک تو میں یہی سمجھتا رہا کہ ماں کوئی ایسی مخلوق ہے جسے نہ تو بیماری لاحق ہوتی ہے نہ وہ تھکتی ہے اور نہ ہی اسے کوئی غم ہے۔ اور میں غلط نہیں سمجھتا تھا کیونکہ ہمیشہ اسے مصروف کار ہی تو دیکھا تھا نہ کسی سے کوئی گلہ پانی تک کا گلاس بھی نہیں مانگا تھا کبھی کسی سے اور چہرہ پر وہ غیرفانی بشاشت۔ تپتی دوپہر ہو یا رات کا پچھلا پہر جب بھی ماں کو پکارا ماں تو جیسے بیٹھی ہی اس انتظار میں تھی کہ ہم آواز دیں اور وہ ہماری خدمت کرے۔ ہاں خدمت…… اسے خدمت ہی تو کہتے ہیں کہ کسی کے لیے اپنے سارے قوی عمل میں لاکر اس کے لیے ہر وقت مصروف عمل رہنا۔

نہیں…… خدمت میں تو غرض ہوتی ہے لیکن ماں بے غرض ہے بے لوث… اسے شاید اسی کو شاید ممتا کہتے ہیں!
ایک لمباعرصہ تو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ کئی بار عید کی شاپنگ کے دوران ہمارے جوتے کپڑوں گھڑی چشموں میں ماں کا جوڑا بھی نہیں ہوتا۔

ماں کے چہرہ کی غیرفانی بشاشت اور لبوں کی ازلی مسکراہٹ سے کبھی نظر ہٹتی تو کچھ اور دِکھتا…

ملنگ وجود


ملنگ وجود

ایک روز دفتر میں اپنی کرسی پہ بیٹھا میں کسی تحقیقی کام میں مصروف تھا کہ ایک آہٹ تیز تیز قدم اٹھنے کی مجھے اپنی جانب بڑھتی محسوس ہوئی۔ میں نے یکسوئی قائم کرنے کے لیے سر کو تھوڑا اور کتاب پہ جھکا لیالیکن میری یہ کوشش اس وقت بے سود ثابت ہوگئی جب کسی ہاتھ نے میرا کندھا پکڑ کے جھنجوڑا اور میرے مڑ کے دیکھنے پر پوچھاکہ ’’کیا کر رہے ہو؟‘‘

اس سے قبل کے میں کچھ کہہ پاتا اس نے میرے سامنے پڑی کتاب ذرا ضدی سے لہجہ میں یہ کہتے ہوئے بند کردی کہ ’’چھوڑو یہ کیا کر رہے ہو‘‘

میری آنکھیں جو مسلسل اس کے چہرہ پہ ٹکی ہوئی تھیں ، کی حیرانی ختم نہ ہوئی تھی کہ بے پناہ معصومیت سے کہ جس کے آگے سنگ دل ہی کیا سنگ بھی پگل جائے مہین سی آواز میں بولا ’’آؤ چھم چھم کھیلیں۔۔۔۔۔‘‘ !!!

میری آنکھوں کی بھنویں یہ سنتے ہی اوپر ہوئیں جیسے پوچھ رہی ہوں کہ ’’کیا!‘‘۔

وہ بھی آنکھوں کااشاہ سمجھتے ہوئے اس بار ذرا ناز سے بولا’’چھم چھم کھیلیں۔۔!‘‘

اس سے پہلے کہ میرے دل و دماغ کے تار باہم مل کے اس کی بات کا کچھ جواب دیتے اس کے چہرے پہ اداسی کے اثار ظاہر ہونے شروع ہوگئے۔۔۔

میری مناسب الفاظ کے انتخاب کی کوششیں اور بھی تیز ہوگئیں ۔۔۔لیکن اس کے چہرے کی اداسی نے کرب کی صورت دھار لی۔۔۔

اس وقت مجھے بات کرنے کے لیے اپنے دونوں ہونٹوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا۔۔۔

شاید وہ میری بے بسی کی کیفیت کو بھانپ گیا تھا۔۔۔یا شاید اس نے میری بے کسی کو انکار پر محمول کر لیا تھا۔۔۔

اور پھر وہی آہٹ اس کے دور جانے کی۔۔۔لیکن اب کی بار ایک آہٹ سے دوسری آہٹ کا فاصلہ پہلے سے بہت بڑھ گیا تھا۔۔۔جوتوں کی گھسٹ قدموں کا بوجھل پن بتانے کے لیے کافی تھی۔۔۔

میں اسے روکنا چاہتاتھا لیکن۔۔۔اس بار بھی الفاظ کے انتخاب میٍں ناکامی نے میرا سر نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب پر جھکا دیا۔۔۔

امید

امید

احساس محرومی شاید اس زندگی کا سب سے بوجھل احساس ہے

کوئی لاکھوں میل دور کیوں نہ چلا جائے لیکن اس کے واپس آنے کی امیداگر  ہو تو یہ دوریاں بھی کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔

یہ امید دل کو مطمئن رکھتی ہےچاہے اس کے واپس آنے کا وعدہ سالوں بعد کا ہی کیوں نہ ہو۔

وہ گھر دل کو دلاسا دیتا ہے جس میں وہ رہتا تھا

وہ گلیاں دل کو حوصلہ دیتی ہیں جہاں سے وہ گزرا کرتا تھا

اس سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنے والی ہر چیز اس کی سنہری یاد بن جاتی ہے

 موسم کی شدت زمانہ کی گردش حالات کا اتار چڑھاؤ سب کچھ انسان اس ایک امید کے سہارے جو کسی دن یا ایک نہ ایک دن کسی کے واپس آجانے کی ہوتی ہیں برداشت کر لیتا ہے

لیکن اگر اس امید کی جگہ کسی جانے والے کے کبھی نہ لوٹنے کا احساس ہو تو پھر چاہے اس سے فاصلہ چند قدموں کا ہی کیوں نہ ہو سانس لینا مشکل کر دیتا ہے

اس گھر میں رہنا محال ہوجاتا ہے جہاں وہ رہتا تھا ان گلیوں میں چلنا مشکل ہوجاتا ہے جہاں سے وہ گزرتا تھا

اس سے تعلق رکھنے والی ہر چیز ماضی کی ایک تاریک حقیقت لگنے لگتی ہے

اس تاریک حقیقت میں اس کے لوٹ آنے کی امید روشنی کا وہ دیا ہے جس کی لو چاہے کتنی ہی مختصر کیوںٍ نہ ہو مگر تاریکی کو بھگا دیتی ہے۔

لیکن اگر امیدیں دم توڑ جائیں تو سانسوں کا جسم سے مضبوط ترین رشتہ بھی خزاں میں پتوں اور شاخوں یا ہونٹوں اور پھیکی مسکراہٹ کے رشتے کی طرح کمزور تر ہوتا چلا جاتا ہے۔۔۔

%d bloggers like this: