Category Archives: Current Affairs

میری ماں

میری ماں
میں بیمار تھا ، بخار تھا غالباً۔لیکن مجھ زیادہ آنکھیں میری ماں کی کھچی ہوئی تھیں کیوں مجھے تو اس نے سلا دیا تھا اور خود ساری رات میرے سرہانے بیٹھی رہی تھی…… کبھی سر دباتی کبھی پانی کا پوچھتی کبھی دعائیں پڑھ کے پھونکتی اور بجلی چلی جاتی تو پنکھا جھلتی۔
شاید تھکاوٹ اور نیند کی شدت سے ہی ان کھچی ہوئی آنکھوں میں سرخ شریانیں بھی نمودار ہورہیتھیں۔ یا شاید باورچی خانے کے دھوئیں کا اثر تھا کیونکہ میرا ناشتہ میرے اٹھنے سے پہلے تیار تھا۔
اپنا سراپا مجھے ایک مقناطیسی وجود معلوم ہورہا تھا کہ جس کے محور سے ماں نکل ہی نہیں پا رہی تھی۔ کبھی دروازے سے پردہ سرکا کے مجھے دیکھتی… کبھی دبے پاؤں کچھ پڑھ کے پھونک جاتی…… ماں ہے ناں بھلا رہا جاتا ہے اس سے اپنی اولاد کو چھوئے بغیر جس بے مثال ممتا سے وہ ملاطفت سے پُر دست شفقت میرے گال کی جانب بڑھتا میں اسے بند آنکھوں سے بھی دیکھ سکتا تھا۔
آہ………… وہ گداز دست شفقت……
وہ ٹھنڈک… وہ سکون… دنیا کی ساری راحتیں ایک طرف اور ماں کا وہ

محبت سے لبریز…گداز…دست شفقت و رحمت ایک طرف…
میں بے خوف و خطر گھر سے نکلتا ہوں گاڑیوں میں بیٹھتا ہوں بازاروں میں چلتا ہوں کیوں کہ میرے گرد میری ماں کی دعاؤں کا حصار ہے۔
اپنی کسی بھی کامیابی کی اطلاع دینے کے لیے جب بھی ماں کو فون کیا تو ہمیشہ فون کسی بہن بھائی نے اٹھایا اور جواب ملا کہ:
’’امی نفل پڑھ رہی ہیں‘‘
ہماری ماں کا ہمیشہ سے یہ طریقہ کار رہا ہے کہ جب بھی ہم امتحان دینے جاتے ہیں تو وہ تقریباً سارا وقت پیچھے نوافل ادا کرتی رہتی ہیں۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک بڑا اہم پرچہ تھا اور میں سوالنامے سے ہمیشہ کی طرح مکمل اجنبیت کا اظہار کررہا تھا۔ لیکن اس بار مختلف یہ تھا کہ ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد بھی میں کوئی سوال حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔ کوئی ایسی دعا نہیں تھی جو مجھے آتی تو تھی لیکن میں نے پڑھی نہ تھی ۔ قوت مشاہدہ ایسی تیز ہوئی ہوئی تھی کہ کمرہ کی ہر چیز کا محل و وقوع حفظ ہوچکا تھا۔ غالباً 9 بجے کے قریب میں نے قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا اور کافی حد تک پرچہ حل کرلیا۔ نتیجہ نکلنے پر اس پرچہ میں کامیاب بھی ہوگیا۔ جب گھر آیا تو ماں نے بتایا کہ آج پرچہ کا وقت صحیح یاد نہیں تھا اس لیے نوافل 8 بجے کی بجائے 9بجے ادا کرنے شروع کیے۔ میں نے کہا امی جان شکر ہے آپ کو ایک گھنٹہ کا ہی مغالطہ ہوا ورنہ اگر آپ یہ سمجھتیں کہ پرچہ دوپہر کو ہے تو مجھے تو بس صفائی کے نمبر ہی ملنے تھے۔

ایک لمبے عرصہ تک تو میں یہی سمجھتا رہا کہ ماں کوئی ایسی مخلوق ہے جسے نہ تو بیماری لاحق ہوتی ہے نہ وہ تھکتی ہے اور نہ ہی اسے کوئی غم ہے۔ اور میں غلط نہیں سمجھتا تھا کیونکہ ہمیشہ اسے مصروف کار ہی تو دیکھا تھا نہ کسی سے کوئی گلہ پانی تک کا گلاس بھی نہیں مانگا تھا کبھی کسی سے اور چہرہ پر وہ غیرفانی بشاشت۔ تپتی دوپہر ہو یا رات کا پچھلا پہر جب بھی ماں کو پکارا ماں تو جیسے بیٹھی ہی اس انتظار میں تھی کہ ہم آواز دیں اور وہ ہماری خدمت کرے۔ ہاں خدمت…… اسے خدمت ہی تو کہتے ہیں کہ کسی کے لیے اپنے سارے قوی عمل میں لاکر اس کے لیے ہر وقت مصروف عمل رہنا۔

نہیں…… خدمت میں تو غرض ہوتی ہے لیکن ماں بے غرض ہے بے لوث… اسے شاید اسی کو شاید ممتا کہتے ہیں!
ایک لمباعرصہ تو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ کئی بار عید کی شاپنگ کے دوران ہمارے جوتے کپڑوں گھڑی چشموں میں ماں کا جوڑا بھی نہیں ہوتا۔

ماں کے چہرہ کی غیرفانی بشاشت اور لبوں کی ازلی مسکراہٹ سے کبھی نظر ہٹتی تو کچھ اور دِکھتا…

Trip to a FunFair @ NJC:)


فن فئر کی کہانی جاذبہ کی زبانی 🙂

ہاں اتنا بھڑا جوکر بھی تھا اور لڑکیاں بھی تھیں لڑکیوں نے جوکر پہنا ہوا تھا(بھوت بنگلہ) فیضان بھی ڈر رہا تھا اور میں بھی۔ اور ناں فیضان بھی ڈر رہا تھا، خالو نے مجھےا ٹھایا ہوا تھا ایک لڑکی نے ناں پھر اپنے منہ سے جوکر اتارا تھا تو ایک جوکر  کے پاس لائٹ تھی۔ خالو نے جوکر کو کہا کہ لائٹ آن کرو تو جوکر نے نہیں کی۔ تو پھر لڑکیوں نے جوکر اتارا (mask) پھر ہم جوکر سے باہر چلے گئے تو پھر ناں چھوٹے بچے تھے وہ بھی اندر گئے تھے جوکر دیکھنے، وہ ڈرتے نہیں تھے جوکر سے.

اور ایک جھنڈا پکڑ کے کوئی ناں جھنڈے والے کپڑے پہن کے ادھر ادھر گھوم رہا تھا۔ (سکاؤٹ) جو بھی شرارت کا بچہ آرہا تھا اسے مار رہے تھے۔

پھر ناں میں ناں اچھلنے والے پہ گئی۔ فیضان کی ٹیچر نے کہا تھا کہ جو بچہ یہاں اچھلے گا ناں تو اسے ایک بال(ball) ملے گی تو میں ناں میں چھلانگیں مار رہی تھی(اچھلتے ہوئے) تو ٹیچر نے کہا تھا کہ جو نیچے گرے گی اسے بال نہیں ملے گی تو فیضان کو بھی بال مل گئی لبینہ کو بھی تو مجھے نہیں ملی۔ میں نے آنٹی کو کہا بھی کہ میں چھلانگیں مار رہی تھی مجھے بھی بال دے دیں لیکن انہوں نے نہیں دی۔

ہم نے وہاں چیز بھی لی۔

پھر میں ناں گھومنے والے جھولے پہ گئی (گھوم کے دکھاتے ہوئے) وہاں ایک آنٹی تھیں ٹیچر تھیں انہوں نے کہا کہ وہاں ناں ایک ڈبے کو گھوم کے ٹانگ مارو گی تو کینڈی (candy) ملے گی تو میں نے ٹانگ ماری تو مجھے کینڈی تو مل گئی۔

ہم نے ناں مونکیوں کا شور بھی دیکھا تھا (monkey show i guess) مونکی ادھر ادھر بھاگ رہے تھے کسی بچے نے ناں مونکی بنایا ہوا تھا ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔ہاں! ایک بچہ ہی مونکی بنا ہوا تھا!
پھر ہم دوسری دوکان پہ گئے تو وہاں سے چیز لے کے آئے۔ ہم نے چاٹ بھی کھائی۔

وہاں سارا کچھ تھا! کسی نے بطخ پہنی ہوئی تھی کسی نے بکری کا ٹراؤزر پہنا ہوا تھا او ربکری بنی ہوئی تھی کسی چھوٹے بچے نے کلہاڑی پکڑی ہوئی تھی وہ پتھر کو مار رہا تھا اسے نہیں لگ رہی تھی اسے چوٹ نہیں لگ رہی تھی۔ (کرکے بتاتے ہوئے)

وہاں پر سارے لوگ آئے تھے۔ وہاں پر مہندی بھی ہورہی تھی کوئی لوگ ڈھولکی بھی بجا رہے تھے اور شادی ہورہی تھی۔ پھر دلہن آئی تھی میں نے نہیں دیکھی پھر وہ چلی بھی گئی۔ پھر ایک اور دلہن آئی تھی وہ میں نے دیکھی۔ وہ چٹا ککڑ بھی گا رہے تھے۔

موٹو پتلو بھی وہاں آئے ہوئے تھے مجھے نہیں دکھائے میں سکول گئی ہوئی تھی۔

بڑے بڑے بلوون تھے سارے اس کو پھاڑ رہے تھے میں نے اس کو پھاڑنے کی کوشش کی مجھ سے نہیں پھٹے۔ ایک بچے نے ناں جوکر سے السلام علیکم کرا تھا جوکر نے اسے کاٹا بھی نہیں تھا مجھے جوکر نے کاٹا تھا میں نے جوکر کے منہ پہ ہاتھ لگایا تھا۔

ہاں! مارکر بھی لگائے ہوئے تھے بچوں نے منہ کے اوپر۔ ماں نے اپنے میک اپ کی چیزیں لی تھیں۔ ہمارے لیے بھی کچھ لیا ہی تھا۔ وہاں پہ واش روم بھی تھا۔ سارا کچھ تھا وہاں پر! 🙂

فطرت، اخلاقیات، آزادیٔ فکر، آزادی اظہار خیال، مذہب اور شعائراللہ کا احترام


اس بلاگ کا عنوان میرے نزدیک ان خیالات کا خلاصہ ہے جو پچھلے کچھ دنوں سے میری ٹائم لائن پر ظاہر ہورہے ہیں۔ پہلے میں نے اسے آزادیٔ اظہار خیال جان کر اتنی وقعت نہیں دی تھی۔ (گو میں ذاتی طور پر سرعام اس قسم کے غیرذمہ دارانہ اظہار کو پسند نہیں کرتا کیونکہ میرے نزدیک کسی مشکل یا مسئلہ یا سوال کا حل یا کسی وہم کا ازالہ متعلقہ جگہ سے چاہنے کی بجائے ادھر ادھر بات کرتے پھرنا بذات خود بددیانتی ہے۔ بہرحال اس وقت میرا مقصد اس طریقہ کار کی نفی یا فوائد و نقصانات پر بحث کرنا نہیں ہے۔) لیکن اب جبکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ بعض ایسے لوگ جنہیں اپنے خیال میں  مَیں دین  کا انتہائی وفادار اور صائب الرائے خیال کرتا تھا، اس قسم کے خیالات سے متاثر ہورہے ہیں تو میں نے مناسب سمجھا کہ
“اپنی سمجھ”
کے مطابق قرآن کریم کے حوالہ سے اس موضوع پر کچھ بات کروں۔ واضح ہو کہ یہ صرف

“میرا ذاتی نقطہ نظر”

ہے۔

فطرت کیا ہے؟ فطرتی تقاضے کیا ہیں؟ اخلاق کیا ہیں؟ انسان کی پیدائش کا مقصد کیا ہے؟ اس مقصد کے حصول کے کیا طریق ہیں؟ کیا بغیر مذہب کے اسے حاصل کیا جاسکتا ہے ؟ اور سب سے ضروری سوال کہ مذہب کیا ہے؟ تہذیب کیا ہے؟ آزادیٔ اظہار خیال کیا ہے؟ ادب کیا ہے؟
میرے نزدیک فطرت وہ ساخت ہے وہ ڈھال ہے وہ سانچ ہے جس پہ انسانی قویٰ مرتّب ہیں۔ انسان کا کسی بھی نیکی کی طرف میلان اور بدی سے کراہت اس کا فطرتی عمل یا رد ّعمل ہے یا یوں کہہ لیں کہ اس کا ایک فطرتی تقاضا ہے۔ جبکہ سچ، جھوٹ، دیانتداری، بددیانتی، انصاف، ناانصافی وغیرہ اس کے اچھے یا برے اخلاق ہیں۔
تو یہ انسان کی طبع ہے وہ طرز ہے جس پہ اس کی بنا ہے۔ اور اس طبع میں ایک بات خداتعالیٰ نے یہ بھی رکھی کہ: الھمھا فجورھا و تقواھا۔ (الشمس: 9) یعنی اس کى بے اعتدالىوں اور اس کى پرہىزگارىوں (کى تمىز کرنے کى صلاحىت) کو اس کى فطرت مىں ودىعت کىا۔
اب سوال ہے کہ کیوں؟ کیوں بنایا گیا ؟ انسان کو کیوں بنایا گیا ہے؟ لیعبدون ۔(الذاریات: 57) تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔
یہ ہے تخلیق انسان کی غرض! انسان کی پیدائش کا مقصد۔ لیعبدون۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔

جب انسان کی پیدائش کا یہ مقصد ہے تو انسان کا اولین فرض کیا ہوا؟ ظاہر ہے خدا تعالیٰ کی عبادت کرنا، اس سے تعلق پیدا کرنا۔ تو کیا اگر انسان اس مقصد کو حاصل نہیں کرتا تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے خالق کے نزدیک ناکارہ ہے؟ کیا کوئی بھی صانع اپنی بنائی ہوئی کسی چیز کو جو ناکارہ ہو سنبھال کے رکھتا ہے؟ کیا کوئی بھی چیز جو اپنے قیام کے مقصد کو پورا نہیں کرتی اپنی تخلیق کی غرض کو نہیں پاتی اس قابل نہیں کہ صانع اس کا ردی اسے جان کر پھینک دے؟

بہرحال خداتعالیٰ نے دنیا نے بنائی، انسان کو پیدا کیا اور اس کی پیدائش کی غرض یہ بتائی کہ وہ اس کی عبادت کرے۔ اب انسان کیسے عبادت کرے؟ کیسے اپنی پیدائش کے مقصد کو پائے؟ بلکہ عبادت ہے کیا؟
ان تمام سوالات کے حل کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے ہی ان کے راہنما (انبیاء علیھم السلام) مبعوث کیے۔ جنہوں نے انہیں خداتعالیٰ تک پہنچنے کی راہ (مذہب) کو قائم کیا۔ جو کہ معاشرتی، معاشی، اخلاقی وغیرہ تعلیمات ہیں۔
یہاں میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ مذہب خداتعالیٰ تک پہنچے کا رستہ ہے تو اس سے روزمرہ کی زندگی سے ہٹ کر کسی خاص وقت مقررہ یا جگہ مخصوصہ میں بند ہو کر کسی مخصوص عمل کی انجام دہی مراد نہیں ہے۔ بلکہ مذہب ایک ضابطہ حیات ہے۔ یعنی ان ہدایات کا مجموعہ ہے جو ہمارے جملہ معاملات سے متعلق ہیں۔
کیونکہ عبادت صرف اوقات مقررہ میں طریق مقررہ پر خداتعالیٰ کے آگے جھکنے کا نام ہی نہیں بلکہ عبودیت اپنے ہر قول و فعل میں خداتعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر چلنے کا نام ہے۔ چاہے وہ اپنی ذات کے متعلق ہو، اہل و عیال کے متعلق ہو، ہمسائیوں کے متعلق ہو، غیرمذاہب والوں کے متعلق ہو، عام انسانوں کے متعلق ہو، حیوانات کے متعلق ہو وغیرہ۔ غرض ہر معاملہ میں خداتعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کی پابندی کرنا عبودیت ہے۔
یہ بات غلط نہیں ہے کہ فطرتی طور پہ انسان میں وہ اوصاف پائے جاتے ہیں یا پائے جاتے تھے جن کی مناسب تربیت کرکے انہیں اخلاق فاضلہ سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کیا یہ فطرتی اندرونی تقاضے بغیر کسی خارجی محرک کے وہ صورت اختیار کرسکتے ہیں جو ایک بندہ کا تعلق خدا سے ملا دے؟ ظاہر ہے نہیں کرسکتے ورنہ تمام کاروبار انبیاء علیھم السلام کا بے معنی ٹھہرتا ہے۔
اور اس کی مثال ابھی یہ مضمون لکھتے ہوئے میرے سامنے حلف الفضول والے واقعہ سے آئی ہے کہ ایک وقت میں کچھ لوگوں نے اکٹھے ہوکر مظلوموں کی مدد کرنے کا حلف اٹھایا اور مدد کرتے بھی رہے لیکن کچھ عرصہ بعد جب ایک مظلوم کے مقابل ایک رئیس آیا تو ان میں سے کسی میں بھی اٹھ کھڑے ہونے کی جرات پید انہ ہوئی۔ سوائے حضرت محمد ﷺ کے۔

تو فطرتی تقاضے تو بس اتنا ہی کرسکتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ اتنا کافی نہیں ہے بلکہ بالکل ہی ناکافی ہے۔ کیونکہ بفرض محال کسی دہریے کی مثال سے خداتعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کی بات نہ بھی کریں بلکہ ایک بااخلاق معاشرہ کی تشکیل ہی مقصود ہو تو شاید کسی ایک شخص میں تو کبھی اتنی سعادت پیدا ہوجائے کہ اسے بااخلاق انسان کہا جاسکے لیکن کیا اس طرح ایک با اخلاق معاشرہ کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے؟

نہیں لا جاسکتا۔ ایک با اخلاق معاشرہ کے قیام کے لیے بھی مذہب کا نام لے کر یا بغیر نام لیے انہیں انسانی اخلاقی اقدار قرار دے کر مذہب کے بتائے ہوئے طریق پر چلنا ضروری ہے۔
اب میں اسلام کی بات کرتا ہوں۔
مذہب اسلام کا دعوی ہے کہ باقی تمام مذاہب ایک محدود وقت اور محدود قوم یا قوموں کے لیے تھے اور اسلام کے ظہور کے وقت انسانی دست برد کی وجہ سے اپنی حقانیت کھو بیٹھے تھے۔ اس لیے اب حقیقی نجات اگر کوئی حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ بدوں اسلام ممکن نہیں۔
اسلام کو انسانی فطرت کا مذہب کیوں کہا جاتا ہے؟ کیونکہ اسلام انسان کے فطرتی تقاضوں کی تسکین کرتا ہے۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات عین انسانی فطرت کے مطابق ہیں۔ اور قابل عمل ہیں۔ مثلاً کیا اگراس وقت کسی عیسائی کے گال پر تھپڑ مارا جائے تو وہ دوسرا گال آگے کرے گا؟ ظاہر ہے نہیں کرے گاکیونکہ یہ تعلیم اس وقت کے مخصوص کے حالات کے مطابق تو بے شک بہترین تھی لیکن موجودہ حالات میں اسے لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ اب ہر قسم کے حالات میں جو تعلیم مؤثر ہے وہ جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ۔ (یعنی بدى کا بدلہ، کى جانے والى بدى کے برابر ہوتا ہے پس جو کوئى معاف کرے بشرطىکہ وہ اصلاح کرنے والاہو تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔) کی ہے۔
یہاں ایک اور بات بھی بیان کردینی ضروری سمجھتا ہوں کہ مذہب کا مقصد کسی زمانہ میں بھی انسانی سوچ پر پابندی لگانا یا اسے محدود کرنا نہیں رہا ہے۔ اگر میں اپنے مذہب اسلام کی ہی بات کروں تو بار بار قرآن غور و فکر کی تلقین کرتا ہے جیسا کہ بار بار خداتعالیٰ نے کارخانۂ قدرت کے نظام کو پیش کرکے فرمایا کہ یہ سب اس لیے ہے کہ تم غور و فکر سے کام لو۔ (البقرۃ: 220، 267۔ آل عمران: 192۔ الانعام: 51۔ الاعراف: 177۔ یونس: 25۔ رعد: 4۔ النحل:12،45،70۔ الروم: 9،22۔ الزمر: 43۔ الجاثیۃ: 14۔ الحشر: 22)
لیکن ہمارا مقصد بہرحال اپنے مقصد پیدائش کا حصول ہونا چاہیے۔ کوئی بھی سلیم فطرت اس کی ضرورت سے انکار نہیں کرسکتا جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے۔
خدا کس کو ملنا ہے کس کو نہیں ملنا اس کا فیصلہ آپ یا میں نہیں کرسکتے۔ اس کا فیصلہ یا تو خدا نے کرنا ہے یا اس نے کرنا ہے جسے خدا نے اختیار دیا ہو۔ بہرصورت مجھے اس بات کا اختیار نہیں۔ تو میرے ہاتھ میں کیا ہے پھر؟ میرے پاس وہ رہنمائی ہے جو خدا نے میری کی ہے اپنی کتاب میں یا اپنے نبی کے ذریعہ۔ اور وہ یہ ہے کہ
ان الدین عنداللہ الاسلام۔ (آل عمران: 20) کہ اللہ کے نزدیک دین اب صرف اسلام ہی ہے۔ پھر اس سے اگلی ہی آیت میں فرمایا:

فان حاجوک فقل اسلمت وجھی للہ ومن اتبعن و قل للذین اوتوا الکتاب والامیین ا اسلمتم فان اسلموا فقد اھتدوا۔ و ان تولوا فانما علیک البلاغ۔ واللہ بصیر بالعباد۔(آل عمران 21)
پس اگر وہ تجھ سے جھگڑاکرىں تو کہہ دے کہ مىں تو اپنى توجہ خالصۃً اللہ کى رضا کے تابع کر چکا ہوں اور وہ بھى جنہوں نے مىرى پىروى کى اور ان سے کہہ دے جنہىں کتاب دى گئى اور ان سے بھى جو بے علم ہىں کہ کىا تم اسلام لے آئے ہو پس اگر وہ اسلام لے آئے ہىں تو ىقىناً وہ ہداىت پا چکے اور اگر وہ پىٹھ پھىر لىں تو تجھ پر صرف (پىغام) پہنچانا فرض ہے اور اللہ بندوں پر گہرى نظر رکھنے والا ہے۔

لہٰذا خداتعالیٰ نے اپنی الہامی کتاب میں ہمیں بتادیا کہ دین اللہ کے نزدیک اب صرف اسلام ہی ہے۔ اور صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ فرمایا کہ اہل کتاب کو بھی کہہ دو اور اُمّیوں کو بھی کہہ دو کہ اسلام لے آؤ گے تو ہدایت پاؤ گے۔

محبت الٰہی کے حصول کا طریق کیا ہے؟ کیسے پتہ چلے گا کہ کوئی واقعی خدا سے محبت کرتا ہے بلکہ اس سے بھی اہم یہ کہ وہ کیا طریقہ کار ہے جس سے خدا بھی بندہ سے محبت کرنے لگ جائے؟ کیا قرآن میں اس طرف خداتعالیٰ نے ہماری کوئی رہنمائی کی؟بالکل کی ہے۔ چنانچہ فرمایا:

قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ۔ (آل عمران: 32)
آنحضرت ﷺ کو فرمایا کہ بنی نوع انسان کو یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو پھر میری اتباع کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ بھی تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔

اب خداتعالیٰ کسی بت کے بچاری ہندو کی دعا قبول کرتا ہے یا نہیں کرتا، کسی عیسائی کو اپنا عرفان دیتا ہے یا نہیں دیتا، کسی دہریہ کو الہام کرتا ہے یا نہیں کرتا ان تمام باتوں سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ تمام باتیں خداتعالیٰ کی رضا سے متعلق ہیں۔ اس چیز کا فیصلہ میں نے نہیں کرنا کہ خدا کیا کرسکتا ہے کیا نہیں کرسکتا۔ وہ قادر مطلق ہے مالک کُل ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ بلکہ جیسا کہ حدیث مشہور ہے کہ جہنم پہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ باد صبا سے اس کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں گے گویا اس میں اس وقت کوئی نہ رہے گا، تو خداتعالیٰ نے یہ ذمہ داری مجھ پہ نہیں ڈالی۔ میرے تعلق میں جو بات ہے جو میں نے اختراع نہیں کی بلکہ خداتعالیٰ نے اپنی کتاب میں مجھے بتائی ہے وہ یہ ہے کہ:
انسان کی پیدائش کا مقصد خداتعالیٰ کی عبادت کرنا ہے اور یہ مقصد اب صرف مذہب اسلام پر عمل کرکے ہی حاصل ہوسکتا ہے اس کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

آخری عرض یہ ہے کہ آزادیٔ اظہار خیال کو بالکل بھی آزاد نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ مقولہ مشہور ہے کہ
حفظ مراتب نہ کنی زندیقی
دنیاوی راہنما اگر کوئی معمولی کارنامہ بھی سرانجام دے دیں تو ہم ان کی مدح سرائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگ جاتے ہیں تو وہ تمام بزرگ جو دربار الٰہی میں معزّز ہیں جن کی روحانی استعدادیں اس پایہ پہ پہنچیں کہ الہام الٰہی کا مورد بننے کے قابل ٹھہریں، ان کے بارہ میں بات کرتے ہوئے ہماری زبان کیوں پھسلنے سے نہیں رکتی؟؟؟
یہی آزادیٔ اظہار خیال کی بے لگامی ہی ہے جو پھر “خاکوں” والے افسوسناک واقعات کو جنم دے کر لاکھوں کروڑوں دلوں کو چھلنی کرتی ہے، فسادات بھڑکاتی ہے۔
تجربہ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جوں جوں انسان کا علم بڑھتا ہے اس کی سوچ، شعور اور خاص طور پہ بات کرنے کے انداز میں تبدیلی آتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی موضوع پر اپنا ذوقی نقطہ بیان کرنے سے پہلے ان لوگوں کی تحریرات کا پڑھ لینا بہت مفید ہوتا ہے جن کو کسی دنیاوی یونیورسٹی نے نہیں بلکہ براہ راست خداتعالیٰ نے علم دیا ہوتا ہے۔
و ما توفیقنا الا باللہ العلی العظیم۔

میں آئندہ کبھی اپنے بچوں کو نہیں ماروں گا

 

میں آئندہ کبھی اپنے بچوں کو نہیں ماروں گا
یہ فیصلہ میں نے کل شام کو کیا اور محرک اس کا کل دوپہر سے لے کر شام تک ہونے والے چند واقعات بنے۔
دوپہر کو میں اپنے کمرے میں بیٹھا کام کر رہا تھا ۔ میری بیوی باروچی خانہ میں کھانا بنا رہی تھی اور بچے برآمدہ میں کھیل رہے تھے۔ بچوں کی شور سے متاثر تو میں پہلے ہی ہو رہا تھا لیکن کوفت انتہا کو تب پہنچی جب انہوں نے چیخنا بھی شروع کر دیا۔ میں نے اپنی بیوی کو انہیں چپ کروانے کا کہا ۔ اس نے دو تین بار کوشش کی لیکن بچے کچھ زیادہ ہی شوخے ہوئے ہوئے تھے۔ بالآخر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے چلا کر بچوں کو چپ ہو جانے کا کہا۔ ایک بار تو وہ میری گرج دار آواز سن کر سہم گئے لیکن چند لمحوں کے بعد ہی انہوں نے پھر چیخنا شروع کردیا۔ (چیخ تو اسے میں قرار دے رہا ہوں ورنہ وہ تو خوشی خوشی کھیل رہے تھے۔)
چند منٹ بعد جب انہوں نے دوبارہ چیخنا شروع کیا تو میری کوفت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ میری غیرت کو بھی جاگ آنا شروع ہوگئی کہ میرے ڈانٹنے باوجود یہ خاموش نہیں ہوئے۔ میں اٹھا اور جا کر بڑا بیٹا سامنے آیا اسے ایک ہلکی سی چپت لگا دی۔ کچھ دیر سکون سے گزری اور پھر وہی چیخ و پکار شروع۔ اس بار میں اٹھا اور چپت میں ذرا سختی آنے کے ساتھ ساتھ انہیں یہ دھمکی بھی دے دی کہ اگر اب انہوں نے شور مچایا تو انہیں سخت مار پڑے گی۔
اس بار ان پر کچھ اثر ہوا اور وہ  مزید چند لمحے خاموش بیٹھے رہے۔ لیکن شاید ایک منٹ کے بعد ہی ان کا ضبط جواب دے گیا اور پھر انہوں نے شور کرنا شروع کردیا۔ اب کی بار تو میری بھی ضبط ختم ہوگئی اور میں نے اٹھ کر انہیں خوب ڈانٹا اور دو دو تھپڑ فی کس کے حساب سے انہیں رسید کردیئے۔
تھپڑ شاید زیادہ ہی زور کے تھے کیونکہ میں دیکھتا تھا کہ میرے بیٹے کی آنکھوں میں آنسو ہیں اور وہ تکلیف میں ہے لیکن میرے ڈر کی وجہ سے وہ رو نہیں رہا تھا۔
میں دوبارہ کمرے میں جا کر کام کرنے لگ گیا اور بچے سہمے سہمے وہیں سو گئے۔
میں اپنی اس جارحیت پر شرمندہ بھی تھا لیکن میرا غصہ اور انانیت بار بار مجھے قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ ایسا کرنا ضروری تھا۔ اور ساتھ یہ دلیل بھی دیتے تھے کہ دیکھا بچے خاموش ہو کے سو گئے ہیں۔
خیر شام ہوئی بچے سوئے رہے اور میں ایک ضروری کام سے باہر چلا گیا۔ کافی دیر بعد جب میں گھر واپس آیا تو باہر سے ہی مجھے قہقہوں کی آوازیں سنائی دیں۔ یہ وہی قہقہے تھے جو دوپہر کو مجھے چیخیں لگ رہے تھے۔ اس لمحے میرے ضمیر نے مجھے ایسا جھنجوڑا کہ دوپہر والے سارے واقعات میری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے۔ جب میں اندر گیا تو میں نے کسی کو ڈانٹا نہیں نہ ہی کسی کو مارا بلکہ بچوں کے ساتھ مل کے کھیلنا شروع ہوگیا۔ اپنے ہر وقت مصروف رہنے والے باپ کو اپنے ساتھ کھیلتا دیکھ کر بچوں کی خوشی دیدنی تھی جیسے انہیں کوئی بہت ہی انمول چیز مل گئی ہو۔
ابھی ہم کھیل ہی رہے تھے کہ بیگم نے کھانے کے لیے بلالیا۔ ہم سب نے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔ آج تو اپنی ماں کے ساتھ کوئی بیٹھ ہی نہیں رہا تھا سارے میرے اوپر چڑھ رہے تھے اور میں دل ہی دل میں شرمندگی سے پانی پانی ہوئے جا رہا تھا کہ ان کے بہتر مستقبل کے نام پر اپنی مصروف بنائی ہوئی زندگی کی وجہ سے میں انہیں باپ کے پیار اور توجہ سے محروم کرتا جارہا ہوں۔
خیر کھانا کھانے کے بعد میں نے انہیں پیار کیا اور کہا کہ اب آپ لوگ تھوڑا کھیل لو پھر سوجانا میں نے کچھ کام کرنا ہے۔
میں کمرے میں جا کر کام کرنے لگ گیا۔ کافی دیر کام کرتا رہا پھر جا کے مجھے احساس ہوا کہ بچوں کے چیخنے کی آواز نہیں آرہی۔  مجھے گھبراہٹ ہوئی۔ باہر جا کر دیکھا تو بچے کھیل رہے تھے لیکن شور کو قابو میں رکھے ہوئے تھے کیونکہ ان کے بابا کام کر رہے تھے۔
تب میں نے فیصلہ کیا کہ آج کے بعد میں اپنے بچوں کو کبھی نہیں ماروں گا۔
کیونکہ مار کر میں نے اپنے بچوں کی کیا تربیت کر لی؟ ایک تھپڑ کے عوض چند لمحوں کا سکون؟ کیا وہ تکلیف جو بچے کو تھپڑ کھا کر ہوئی اس کے بدلہ میں ملا سکون اتنا تھا کہ بچے کو اس درد سے گزارا جائے؟ اگر اس عمل کو درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو ایک گھنٹہ کا سکون حاصل کرنے کے لیے کتنے تھپڑ مارنے ہوں گے؟ ایک دن کا سکون حاصل کرنے کے لیے کتنا مارنا پیٹنا ہوگا؟
اور اس سکون کے بدلہ میں جو جسمانی تکلیف بچے کو ہوئی سو ہوئی اس کے ساتھ ہی میرے اور اس کے درمیان ایک دراڑ پڑنا شروع ہوئی جو ہر تھپڑ کے ساتھ بڑھتی گئی۔ پھر بچے کو بھی میں نے اسی جارحیت کا سبق دیا جو مجھ میں تھی۔ آئندہ جب بھی اس کی مرضی کے خلاف جو بات ہوگی وہ اسے طاقت کے ذریعہ ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور سب سے بڑھ کر میں نے اسے ڈھٹائی کی طرف دھکیلا کہ وہ جتنا بھی شور کر لے زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا ایک دو تھپڑ ہی پڑ جائیں گے ناں اس سے زیادہ کیا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اس کی ذہنی نشو و نما کے راستے بھی مسدود کرنے کی کوشش کی۔ اگر میں یہی سلوک جاری رکھتا تو شاید وہ کبھی کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہ کرسکتا ایک ڈر اس کے اندر ہمیشہ کے لیے پیدا ہوجاتا جو اس کی سوچ کو پنپنے نہ دیتا۔ یہ خیال آتے ہی میں نے اپنے رویہ سے توبہ کی اور یہ فیصلہ کیا کہ میں آئندہ کبھی اپنے بچوں کو نہیں ماروں گا بلکہ پیار سے سمجھاؤں گا۔

یہ میری آنکھ کی بینائی ہیں

یہ میرے خواب ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!۔

saboohiahmad

یہ محض خواہشیں، حسرتیں اور امیدیں نہیں ہیں!!

یہ میرے خواب ہیں۔

سراۓ ذات کے وہ باب ہیں

جو

زنگ آلود قفل زدہ یونہی خاموش کھڑے

اپنے کھل جانے کے خوف سے مہر بلب ہیں

ہاں یہ میرے خواب ہیں!

میرے تصور کے سرد خانے میں منجمد، چُپ اور شکستہ پڑے ہیں

جنہیں حسرتِ تکمیل ہے نہ تعبیر طلب ہیں

یہ میرے خواب ہیں۔

یہ میری آنکھ کی بینائی ہیں

یہ میرے آنگن کی زیبائى ہیں

یہ میرا حُسن ہیں، رعنائی ہیں

یہ میرے خواب ہیں۔

کہ ان کا ساتھ میری عمر بھر کا سرمایہ

کہ یہ گواہ میری ہر آس ہر امید کے ہیں

سبُوحى

View original post

روزن 

لب کھلے ہیں

مگر دم گھٹتا ہے

saboohiahmad


روزن


میرے سینے میں اٹکتی ہوئی سانس

سسکتی ہوئی آس


لب کھلے ہیں

مگر دم گھٹتا ہے


تپتے ہوۓ جھلسے ہوۓ لفظ..

اٹک گئے ہیں کہیں سانس کے ساتھ


یہ جو سینے پہ دھری ہے تیرے نام کی سِل

میری سانسوں کو آزاد نہیں ہونے دیتی


دم اکھڑتا ہے تو ہر دم فقط ایک خیال

وہی ایک

میرا دمساز

میرا روزن

……..

(نامكمل)

View original post

میرے خدایا تیری طلب میں میری ادائیں جو تجھ کو بھائیں تو بخش دینا

Ayesha

میرے خدایا تیری طلب میں میری ادائیں جو تجھ کو بھائیں تو بخش دینا…
میرے خدایا!
میرے خدایا تیری طلب ہی تو زندگی ہے کہ جس کی خاطر، میں جی رہی ہوں
میں چل رہی ہوں تیری ہی راہ پر
چلتے چلتے میں گر جو جاوٴں سنبھال لینا مرے خدایا
بخش دینا کہ بخش دینا ہے تیرا شیوہ
میرے خدایا میرے گناہوں کا بار سر پہ پڑا ہوا ہے
کہ میں مسافر شکست خوردہ
در پہ تیرے پڑی ہوئی ہوں
آنکھ اشکوں سے دل امید سے پُر ہے
میرے خدایا تیری طلب میں میری ادائیں جو تجھ کو بھائیں تو بخش دینا

میرے خدایا حقیر احقر ہوں تیری بندی بھٹک رہی ہوں کہ كهو نہ جاؤں
تو تھام لے ہاتھ میرے مالک کہ تیرے ہونے کا احساس ہی ہے
کہ ہر آن چلنے کی جستجو ہے
مگر یہ رستہ کٹھن بہت ہے کہیں میں رستے سے ہٹ نہ جاؤں
اگر…

View original post 53 more words

%d bloggers like this: