Monthly Archives: August 2017

اس کا رب

ویسے تو ہمیں کسی کو کسی بھی معاملے میں جج نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہم کسی کے حالات سے کبھی بھی اس طرح واقف نہیں ہوسکتے جس طرح کہ وہ شخص جو ان سے گزر رہا ہو اس لیے ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ کسی شخص کے مختلف احوال میں عمل یا رد عمل پر اس کی ذات کے متعلق رائے زنی کرتے پھریں۔ ہمیں کچھ بھی نہیں پتہ کہ اس کے دل پہ کیا گزر رہی ہے اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے کیونکہ ہم عالم الغیب نہیں ہیں۔ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ حتی کہ حضرت سیدالبشر ﷺ بھی جو وجہ تخلیق کائنات ہیں غیب دانی سے بریت ظاہر کرتے ہوئے فرماتے ہیں وَلَا اَعْلَمُ الْغَيْبَ۔ (الانعام ) کہ میں غیب کا علم نہیں رکھتا۔

غیب اس ہستی کی صفت ہے جو مستجمع جمیع صفات کاملہ ہے۔ یعنی اللہ۔ یا وہ جسے عطا کرے۔
بہرحال آج جس بات کے لیے میں یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں وہ جذبہ اس شدت سے میرے اندر ولولہ انگیز ہے کہ الفاظ کی نوک پلک کی مہلت بھی میسر نہیں ہے۔ اور وہ ہے بندے اور خدا کا تعلق
ہم میں سے ہر کسی کا کسی نہ کسی رنگ میں کم زیادہ بہت زیادہ بہت ہی زیادہ یا بیاں سے باہر زیادہ حد تک تعلق خدا کے ساتھ ہے۔ اس کی نوعیت ہر شخص کی طبیعت ماحول حالات وغیرہ کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔ اکثر دنیاوی تعلقات کے بیان میں ہم سے الفاظ کھو جاتے ہیں یہ تو پھر……
بات یہ ہے کہ کچھ مہینے پہلے میرے سامنے کسی کی ایک ٹویٹ آئی جس میں خداتعالی سے شکر گزاری کے جذبات کا اظہار تھا۔ میں چونکہ  اس شخص کی بہت ساری برائیوں سے واقف تھا اس لیے میرے نفس نے میرے اس شخص کے متعلق ناخوشگوار واقعات ناخوشگوار تر بناکر مجھے یہ سوچنے پہ مجبور کردیا کہ عیب تو اس میں فلاں فلاں فلاں ہیں اور باتیں دیکھو اس کی۔ مجھے اب یاد نہیں کہ کوئی دعا بھی اس لیے نکلی تھی یا صرف اپنے آپ میں اس پہ تمسخر کرکے میں چپ ہوگیا تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد اس طرح کی کچھ اور ٹویٹس دیکھیں۔ تب تمسخر کی بجائے یہ خیال پیدا ہوا کہ ہر بندہ ماشاء اللہ…… خیر وقتی ندامت و ملامت نے ویلا ٹال دیا۔ اب پھر اسی تعلق کے اظہار کی کسی نے بات کی تو مجھے چند ماہ پہلے والی اپنی بدظنی یاد آگئی…… اور اس بندے کی حالت کی مقابل میں نے اپنی حالت رکھی اور پھر اپنی ذات پر وارد افضال الٰہی دیکھے تو سخت شرمندگی ہوئی کہ جب مجھ جیسے بندے پر اس کی اتنی عطائیں ہیں تو پھر میں کسی اور کے تعلق باللہ پر بدظنی کیونکر کرسکتا ہوں!

جب ہم معمولی دنیاوی احساسات کے ماتحت ڈھیروں اوراق رنگین  کردیتے ہیں تو کسی کا  محبوب حقیقی سے تعلق کا بیان تعجب انگیز کیوں!

اپنی ان گنت کوتاہیوں خامیوں غلطیوں گناہوں کے باوجود ہم میں سے ہر ایک نے اپنے خدا کی بے پایاں شفقت کے نمونے جب دیکھے ہیں کہ کس طرح وہ بیڑے پار لگاتا ہے تو پھر محض کسی شخص کی ذات کے کسی پہلو جس ایک پہلو سے بھی شاید ہمیں پوری شناسائی نہ ہو پہ بنا کرکے اسے سراپا مورد تمسخر بنانا کسی طور بھی جائز نہیں……

کم سے کم اس کے اور اس کے رب کے تعلق پہ بالکل نہیں!

Advertisements

لب خاموش

‫کبھی کسی شب تنہائی میں۔۔‬
‫دل کے کواڑ پہ دستک دیتی۔۔‬
‫کسی کی یاد سے معطر ہوا۔۔‬
‫سناٹے کو فنا کرتی یہ بارش کی بوندیں۔۔‬
‫سوالی آنکھیں۔۔‬
‫تپتا بدن۔۔‬
‫الجھی سوچیں۔۔‬
‫چڑھتی تھمتی سانسیں۔۔‬
‫چلاتی روح۔۔‬
‫شرمندہ دل۔۔‬
‫اور‬
‫لب خاموش۔۔‬

%d bloggers like this: