Monthly Archives: May 2017

میری ماں

میری ماں
میں بیمار تھا ، بخار تھا غالباً۔لیکن مجھ زیادہ آنکھیں میری ماں کی کھچی ہوئی تھیں کیوں مجھے تو اس نے سلا دیا تھا اور خود ساری رات میرے سرہانے بیٹھی رہی تھی…… کبھی سر دباتی کبھی پانی کا پوچھتی کبھی دعائیں پڑھ کے پھونکتی اور بجلی چلی جاتی تو پنکھا جھلتی۔
شاید تھکاوٹ اور نیند کی شدت سے ہی ان کھچی ہوئی آنکھوں میں سرخ شریانیں بھی نمودار ہورہیتھیں۔ یا شاید باورچی خانے کے دھوئیں کا اثر تھا کیونکہ میرا ناشتہ میرے اٹھنے سے پہلے تیار تھا۔
اپنا سراپا مجھے ایک مقناطیسی وجود معلوم ہورہا تھا کہ جس کے محور سے ماں نکل ہی نہیں پا رہی تھی۔ کبھی دروازے سے پردہ سرکا کے مجھے دیکھتی… کبھی دبے پاؤں کچھ پڑھ کے پھونک جاتی…… ماں ہے ناں بھلا رہا جاتا ہے اس سے اپنی اولاد کو چھوئے بغیر جس بے مثال ممتا سے وہ ملاطفت سے پُر دست شفقت میرے گال کی جانب بڑھتا میں اسے بند آنکھوں سے بھی دیکھ سکتا تھا۔
آہ………… وہ گداز دست شفقت……
وہ ٹھنڈک… وہ سکون… دنیا کی ساری راحتیں ایک طرف اور ماں کا وہ

محبت سے لبریز…گداز…دست شفقت و رحمت ایک طرف…
میں بے خوف و خطر گھر سے نکلتا ہوں گاڑیوں میں بیٹھتا ہوں بازاروں میں چلتا ہوں کیوں کہ میرے گرد میری ماں کی دعاؤں کا حصار ہے۔
اپنی کسی بھی کامیابی کی اطلاع دینے کے لیے جب بھی ماں کو فون کیا تو ہمیشہ فون کسی بہن بھائی نے اٹھایا اور جواب ملا کہ:
’’امی نفل پڑھ رہی ہیں‘‘
ہماری ماں کا ہمیشہ سے یہ طریقہ کار رہا ہے کہ جب بھی ہم امتحان دینے جاتے ہیں تو وہ تقریباً سارا وقت پیچھے نوافل ادا کرتی رہتی ہیں۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک بڑا اہم پرچہ تھا اور میں سوالنامے سے ہمیشہ کی طرح مکمل اجنبیت کا اظہار کررہا تھا۔ لیکن اس بار مختلف یہ تھا کہ ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد بھی میں کوئی سوال حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔ کوئی ایسی دعا نہیں تھی جو مجھے آتی تو تھی لیکن میں نے پڑھی نہ تھی ۔ قوت مشاہدہ ایسی تیز ہوئی ہوئی تھی کہ کمرہ کی ہر چیز کا محل و وقوع حفظ ہوچکا تھا۔ غالباً 9 بجے کے قریب میں نے قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا اور کافی حد تک پرچہ حل کرلیا۔ نتیجہ نکلنے پر اس پرچہ میں کامیاب بھی ہوگیا۔ جب گھر آیا تو ماں نے بتایا کہ آج پرچہ کا وقت صحیح یاد نہیں تھا اس لیے نوافل 8 بجے کی بجائے 9بجے ادا کرنے شروع کیے۔ میں نے کہا امی جان شکر ہے آپ کو ایک گھنٹہ کا ہی مغالطہ ہوا ورنہ اگر آپ یہ سمجھتیں کہ پرچہ دوپہر کو ہے تو مجھے تو بس صفائی کے نمبر ہی ملنے تھے۔

ایک لمبے عرصہ تک تو میں یہی سمجھتا رہا کہ ماں کوئی ایسی مخلوق ہے جسے نہ تو بیماری لاحق ہوتی ہے نہ وہ تھکتی ہے اور نہ ہی اسے کوئی غم ہے۔ اور میں غلط نہیں سمجھتا تھا کیونکہ ہمیشہ اسے مصروف کار ہی تو دیکھا تھا نہ کسی سے کوئی گلہ پانی تک کا گلاس بھی نہیں مانگا تھا کبھی کسی سے اور چہرہ پر وہ غیرفانی بشاشت۔ تپتی دوپہر ہو یا رات کا پچھلا پہر جب بھی ماں کو پکارا ماں تو جیسے بیٹھی ہی اس انتظار میں تھی کہ ہم آواز دیں اور وہ ہماری خدمت کرے۔ ہاں خدمت…… اسے خدمت ہی تو کہتے ہیں کہ کسی کے لیے اپنے سارے قوی عمل میں لاکر اس کے لیے ہر وقت مصروف عمل رہنا۔

نہیں…… خدمت میں تو غرض ہوتی ہے لیکن ماں بے غرض ہے بے لوث… اسے شاید اسی کو شاید ممتا کہتے ہیں!
ایک لمباعرصہ تو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ کئی بار عید کی شاپنگ کے دوران ہمارے جوتے کپڑوں گھڑی چشموں میں ماں کا جوڑا بھی نہیں ہوتا۔

ماں کے چہرہ کی غیرفانی بشاشت اور لبوں کی ازلی مسکراہٹ سے کبھی نظر ہٹتی تو کچھ اور دِکھتا…

Advertisements
%d bloggers like this: