نفرتوں میں مست مَیں

کہیں خواہشوں کے سراب میں
کبھی آگہی کے عذاب میں 

میں جہاں رہا میں کہیں رہا

میں رہا تمہارے ہی خواب میں

وہی فکر جس نے ستایا بہت

وہی خیال جس نے رلایا بہت

کہیں روپ میں بہروپ تھے

کہیں بے حسی کے سلوک تھے

سسکیوں کی کُوک میں

بلبلاتی بھوک میں

سردیوں کی چھاؤں میں

گرمیوں کی دھوپ میں

وحشتوں کے دشت میں

صبح یخ بست میں

محبتوں سے ڈرا ہوا

نفرتوں میں مست مَیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: