Monthly Archives: February 2017

نفرتوں میں مست مَیں

کہیں خواہشوں کے سراب میں
کبھی آگہی کے عذاب میں 

میں جہاں رہا میں کہیں رہا

میں رہا تمہارے ہی خواب میں

وہی فکر جس نے ستایا بہت

وہی خیال جس نے رلایا بہت

کہیں روپ میں بہروپ تھے

کہیں بے حسی کے سلوک تھے

سسکیوں کی کُوک میں

بلبلاتی بھوک میں

سردیوں کی چھاؤں میں

گرمیوں کی دھوپ میں

وحشتوں کے دشت میں

صبح یخ بست میں

محبتوں سے ڈرا ہوا

نفرتوں میں مست مَیں

بڑھتے ہی گئے اختلافات مسلسل

مَرا نہیں جو نہ آسکے وہ لوٹ کے

بکتا ہے میرا دل یہ خرافات مسلسل

خدا کا واسطہ! دم لے،  اسے جانے دے!

سراپا التجا ہیں روندے ہوئے جذبات مسلسل

مٹھی میں ریت کب کسی کے قید ہوئی ہے بھلا

پھسلتا ہی گیا میرے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ مسلسل

%d bloggers like this: