Trip to a FunFair @ NJC:)


فن فئر کی کہانی جاذبہ کی زبانی 🙂

ہاں اتنا بھڑا جوکر بھی تھا اور لڑکیاں بھی تھیں لڑکیوں نے جوکر پہنا ہوا تھا(بھوت بنگلہ) فیضان بھی ڈر رہا تھا اور میں بھی۔ اور ناں فیضان بھی ڈر رہا تھا، خالو نے مجھےا ٹھایا ہوا تھا ایک لڑکی نے ناں پھر اپنے منہ سے جوکر اتارا تھا تو ایک جوکر  کے پاس لائٹ تھی۔ خالو نے جوکر کو کہا کہ لائٹ آن کرو تو جوکر نے نہیں کی۔ تو پھر لڑکیوں نے جوکر اتارا (mask) پھر ہم جوکر سے باہر چلے گئے تو پھر ناں چھوٹے بچے تھے وہ بھی اندر گئے تھے جوکر دیکھنے، وہ ڈرتے نہیں تھے جوکر سے.

اور ایک جھنڈا پکڑ کے کوئی ناں جھنڈے والے کپڑے پہن کے ادھر ادھر گھوم رہا تھا۔ (سکاؤٹ) جو بھی شرارت کا بچہ آرہا تھا اسے مار رہے تھے۔

پھر ناں میں ناں اچھلنے والے پہ گئی۔ فیضان کی ٹیچر نے کہا تھا کہ جو بچہ یہاں اچھلے گا ناں تو اسے ایک بال(ball) ملے گی تو میں ناں میں چھلانگیں مار رہی تھی(اچھلتے ہوئے) تو ٹیچر نے کہا تھا کہ جو نیچے گرے گی اسے بال نہیں ملے گی تو فیضان کو بھی بال مل گئی لبینہ کو بھی تو مجھے نہیں ملی۔ میں نے آنٹی کو کہا بھی کہ میں چھلانگیں مار رہی تھی مجھے بھی بال دے دیں لیکن انہوں نے نہیں دی۔

ہم نے وہاں چیز بھی لی۔

پھر میں ناں گھومنے والے جھولے پہ گئی (گھوم کے دکھاتے ہوئے) وہاں ایک آنٹی تھیں ٹیچر تھیں انہوں نے کہا کہ وہاں ناں ایک ڈبے کو گھوم کے ٹانگ مارو گی تو کینڈی (candy) ملے گی تو میں نے ٹانگ ماری تو مجھے کینڈی تو مل گئی۔

ہم نے ناں مونکیوں کا شور بھی دیکھا تھا (monkey show i guess) مونکی ادھر ادھر بھاگ رہے تھے کسی بچے نے ناں مونکی بنایا ہوا تھا ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔ہاں! ایک بچہ ہی مونکی بنا ہوا تھا!
پھر ہم دوسری دوکان پہ گئے تو وہاں سے چیز لے کے آئے۔ ہم نے چاٹ بھی کھائی۔

وہاں سارا کچھ تھا! کسی نے بطخ پہنی ہوئی تھی کسی نے بکری کا ٹراؤزر پہنا ہوا تھا او ربکری بنی ہوئی تھی کسی چھوٹے بچے نے کلہاڑی پکڑی ہوئی تھی وہ پتھر کو مار رہا تھا اسے نہیں لگ رہی تھی اسے چوٹ نہیں لگ رہی تھی۔ (کرکے بتاتے ہوئے)

وہاں پر سارے لوگ آئے تھے۔ وہاں پر مہندی بھی ہورہی تھی کوئی لوگ ڈھولکی بھی بجا رہے تھے اور شادی ہورہی تھی۔ پھر دلہن آئی تھی میں نے نہیں دیکھی پھر وہ چلی بھی گئی۔ پھر ایک اور دلہن آئی تھی وہ میں نے دیکھی۔ وہ چٹا ککڑ بھی گا رہے تھے۔

موٹو پتلو بھی وہاں آئے ہوئے تھے مجھے نہیں دکھائے میں سکول گئی ہوئی تھی۔

بڑے بڑے بلوون تھے سارے اس کو پھاڑ رہے تھے میں نے اس کو پھاڑنے کی کوشش کی مجھ سے نہیں پھٹے۔ ایک بچے نے ناں جوکر سے السلام علیکم کرا تھا جوکر نے اسے کاٹا بھی نہیں تھا مجھے جوکر نے کاٹا تھا میں نے جوکر کے منہ پہ ہاتھ لگایا تھا۔

ہاں! مارکر بھی لگائے ہوئے تھے بچوں نے منہ کے اوپر۔ ماں نے اپنے میک اپ کی چیزیں لی تھیں۔ ہمارے لیے بھی کچھ لیا ہی تھا۔ وہاں پہ واش روم بھی تھا۔ سارا کچھ تھا وہاں پر! 🙂

Advertisements

Tagged: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: