Monthly Archives: June 2016

میں آئندہ کبھی اپنے بچوں کو نہیں ماروں گا

 

میں آئندہ کبھی اپنے بچوں کو نہیں ماروں گا
یہ فیصلہ میں نے کل شام کو کیا اور محرک اس کا کل دوپہر سے لے کر شام تک ہونے والے چند واقعات بنے۔
دوپہر کو میں اپنے کمرے میں بیٹھا کام کر رہا تھا ۔ میری بیوی باروچی خانہ میں کھانا بنا رہی تھی اور بچے برآمدہ میں کھیل رہے تھے۔ بچوں کی شور سے متاثر تو میں پہلے ہی ہو رہا تھا لیکن کوفت انتہا کو تب پہنچی جب انہوں نے چیخنا بھی شروع کر دیا۔ میں نے اپنی بیوی کو انہیں چپ کروانے کا کہا ۔ اس نے دو تین بار کوشش کی لیکن بچے کچھ زیادہ ہی شوخے ہوئے ہوئے تھے۔ بالآخر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے چلا کر بچوں کو چپ ہو جانے کا کہا۔ ایک بار تو وہ میری گرج دار آواز سن کر سہم گئے لیکن چند لمحوں کے بعد ہی انہوں نے پھر چیخنا شروع کردیا۔ (چیخ تو اسے میں قرار دے رہا ہوں ورنہ وہ تو خوشی خوشی کھیل رہے تھے۔)
چند منٹ بعد جب انہوں نے دوبارہ چیخنا شروع کیا تو میری کوفت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ میری غیرت کو بھی جاگ آنا شروع ہوگئی کہ میرے ڈانٹنے باوجود یہ خاموش نہیں ہوئے۔ میں اٹھا اور جا کر بڑا بیٹا سامنے آیا اسے ایک ہلکی سی چپت لگا دی۔ کچھ دیر سکون سے گزری اور پھر وہی چیخ و پکار شروع۔ اس بار میں اٹھا اور چپت میں ذرا سختی آنے کے ساتھ ساتھ انہیں یہ دھمکی بھی دے دی کہ اگر اب انہوں نے شور مچایا تو انہیں سخت مار پڑے گی۔
اس بار ان پر کچھ اثر ہوا اور وہ  مزید چند لمحے خاموش بیٹھے رہے۔ لیکن شاید ایک منٹ کے بعد ہی ان کا ضبط جواب دے گیا اور پھر انہوں نے شور کرنا شروع کردیا۔ اب کی بار تو میری بھی ضبط ختم ہوگئی اور میں نے اٹھ کر انہیں خوب ڈانٹا اور دو دو تھپڑ فی کس کے حساب سے انہیں رسید کردیئے۔
تھپڑ شاید زیادہ ہی زور کے تھے کیونکہ میں دیکھتا تھا کہ میرے بیٹے کی آنکھوں میں آنسو ہیں اور وہ تکلیف میں ہے لیکن میرے ڈر کی وجہ سے وہ رو نہیں رہا تھا۔
میں دوبارہ کمرے میں جا کر کام کرنے لگ گیا اور بچے سہمے سہمے وہیں سو گئے۔
میں اپنی اس جارحیت پر شرمندہ بھی تھا لیکن میرا غصہ اور انانیت بار بار مجھے قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ ایسا کرنا ضروری تھا۔ اور ساتھ یہ دلیل بھی دیتے تھے کہ دیکھا بچے خاموش ہو کے سو گئے ہیں۔
خیر شام ہوئی بچے سوئے رہے اور میں ایک ضروری کام سے باہر چلا گیا۔ کافی دیر بعد جب میں گھر واپس آیا تو باہر سے ہی مجھے قہقہوں کی آوازیں سنائی دیں۔ یہ وہی قہقہے تھے جو دوپہر کو مجھے چیخیں لگ رہے تھے۔ اس لمحے میرے ضمیر نے مجھے ایسا جھنجوڑا کہ دوپہر والے سارے واقعات میری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے۔ جب میں اندر گیا تو میں نے کسی کو ڈانٹا نہیں نہ ہی کسی کو مارا بلکہ بچوں کے ساتھ مل کے کھیلنا شروع ہوگیا۔ اپنے ہر وقت مصروف رہنے والے باپ کو اپنے ساتھ کھیلتا دیکھ کر بچوں کی خوشی دیدنی تھی جیسے انہیں کوئی بہت ہی انمول چیز مل گئی ہو۔
ابھی ہم کھیل ہی رہے تھے کہ بیگم نے کھانے کے لیے بلالیا۔ ہم سب نے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔ آج تو اپنی ماں کے ساتھ کوئی بیٹھ ہی نہیں رہا تھا سارے میرے اوپر چڑھ رہے تھے اور میں دل ہی دل میں شرمندگی سے پانی پانی ہوئے جا رہا تھا کہ ان کے بہتر مستقبل کے نام پر اپنی مصروف بنائی ہوئی زندگی کی وجہ سے میں انہیں باپ کے پیار اور توجہ سے محروم کرتا جارہا ہوں۔
خیر کھانا کھانے کے بعد میں نے انہیں پیار کیا اور کہا کہ اب آپ لوگ تھوڑا کھیل لو پھر سوجانا میں نے کچھ کام کرنا ہے۔
میں کمرے میں جا کر کام کرنے لگ گیا۔ کافی دیر کام کرتا رہا پھر جا کے مجھے احساس ہوا کہ بچوں کے چیخنے کی آواز نہیں آرہی۔  مجھے گھبراہٹ ہوئی۔ باہر جا کر دیکھا تو بچے کھیل رہے تھے لیکن شور کو قابو میں رکھے ہوئے تھے کیونکہ ان کے بابا کام کر رہے تھے۔
تب میں نے فیصلہ کیا کہ آج کے بعد میں اپنے بچوں کو کبھی نہیں ماروں گا۔
کیونکہ مار کر میں نے اپنے بچوں کی کیا تربیت کر لی؟ ایک تھپڑ کے عوض چند لمحوں کا سکون؟ کیا وہ تکلیف جو بچے کو تھپڑ کھا کر ہوئی اس کے بدلہ میں ملا سکون اتنا تھا کہ بچے کو اس درد سے گزارا جائے؟ اگر اس عمل کو درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو ایک گھنٹہ کا سکون حاصل کرنے کے لیے کتنے تھپڑ مارنے ہوں گے؟ ایک دن کا سکون حاصل کرنے کے لیے کتنا مارنا پیٹنا ہوگا؟
اور اس سکون کے بدلہ میں جو جسمانی تکلیف بچے کو ہوئی سو ہوئی اس کے ساتھ ہی میرے اور اس کے درمیان ایک دراڑ پڑنا شروع ہوئی جو ہر تھپڑ کے ساتھ بڑھتی گئی۔ پھر بچے کو بھی میں نے اسی جارحیت کا سبق دیا جو مجھ میں تھی۔ آئندہ جب بھی اس کی مرضی کے خلاف جو بات ہوگی وہ اسے طاقت کے ذریعہ ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور سب سے بڑھ کر میں نے اسے ڈھٹائی کی طرف دھکیلا کہ وہ جتنا بھی شور کر لے زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا ایک دو تھپڑ ہی پڑ جائیں گے ناں اس سے زیادہ کیا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اس کی ذہنی نشو و نما کے راستے بھی مسدود کرنے کی کوشش کی۔ اگر میں یہی سلوک جاری رکھتا تو شاید وہ کبھی کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہ کرسکتا ایک ڈر اس کے اندر ہمیشہ کے لیے پیدا ہوجاتا جو اس کی سوچ کو پنپنے نہ دیتا۔ یہ خیال آتے ہی میں نے اپنے رویہ سے توبہ کی اور یہ فیصلہ کیا کہ میں آئندہ کبھی اپنے بچوں کو نہیں ماروں گا بلکہ پیار سے سمجھاؤں گا۔

Advertisements
%d bloggers like this: