یہ میری آنکھ کی بینائی ہیں

یہ میرے خواب ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!۔

saboohiahmad

یہ محض خواہشیں، حسرتیں اور امیدیں نہیں ہیں!!

یہ میرے خواب ہیں۔

سراۓ ذات کے وہ باب ہیں

جو

زنگ آلود قفل زدہ یونہی خاموش کھڑے

اپنے کھل جانے کے خوف سے مہر بلب ہیں

ہاں یہ میرے خواب ہیں!

میرے تصور کے سرد خانے میں منجمد، چُپ اور شکستہ پڑے ہیں

جنہیں حسرتِ تکمیل ہے نہ تعبیر طلب ہیں

یہ میرے خواب ہیں۔

یہ میری آنکھ کی بینائی ہیں

یہ میرے آنگن کی زیبائى ہیں

یہ میرا حُسن ہیں، رعنائی ہیں

یہ میرے خواب ہیں۔

کہ ان کا ساتھ میری عمر بھر کا سرمایہ

کہ یہ گواہ میری ہر آس ہر امید کے ہیں

سبُوحى

View original post

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: