Monthly Archives: January 2016

یہ میری آنکھ کی بینائی ہیں

یہ میرے خواب ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!۔

saboohiahmad

یہ محض خواہشیں، حسرتیں اور امیدیں نہیں ہیں!!

یہ میرے خواب ہیں۔

سراۓ ذات کے وہ باب ہیں

جو

زنگ آلود قفل زدہ یونہی خاموش کھڑے

اپنے کھل جانے کے خوف سے مہر بلب ہیں

ہاں یہ میرے خواب ہیں!

میرے تصور کے سرد خانے میں منجمد، چُپ اور شکستہ پڑے ہیں

جنہیں حسرتِ تکمیل ہے نہ تعبیر طلب ہیں

یہ میرے خواب ہیں۔

یہ میری آنکھ کی بینائی ہیں

یہ میرے آنگن کی زیبائى ہیں

یہ میرا حُسن ہیں، رعنائی ہیں

یہ میرے خواب ہیں۔

کہ ان کا ساتھ میری عمر بھر کا سرمایہ

کہ یہ گواہ میری ہر آس ہر امید کے ہیں

سبُوحى

View original post

روزن 

لب کھلے ہیں

مگر دم گھٹتا ہے

saboohiahmad


روزن


میرے سینے میں اٹکتی ہوئی سانس

سسکتی ہوئی آس


لب کھلے ہیں

مگر دم گھٹتا ہے


تپتے ہوۓ جھلسے ہوۓ لفظ..

اٹک گئے ہیں کہیں سانس کے ساتھ


یہ جو سینے پہ دھری ہے تیرے نام کی سِل

میری سانسوں کو آزاد نہیں ہونے دیتی


دم اکھڑتا ہے تو ہر دم فقط ایک خیال

وہی ایک

میرا دمساز

میرا روزن

……..

(نامكمل)

View original post

میرے خدایا تیری طلب میں میری ادائیں جو تجھ کو بھائیں تو بخش دینا

Ayesha

میرے خدایا تیری طلب میں میری ادائیں جو تجھ کو بھائیں تو بخش دینا…
میرے خدایا!
میرے خدایا تیری طلب ہی تو زندگی ہے کہ جس کی خاطر، میں جی رہی ہوں
میں چل رہی ہوں تیری ہی راہ پر
چلتے چلتے میں گر جو جاوٴں سنبھال لینا مرے خدایا
بخش دینا کہ بخش دینا ہے تیرا شیوہ
میرے خدایا میرے گناہوں کا بار سر پہ پڑا ہوا ہے
کہ میں مسافر شکست خوردہ
در پہ تیرے پڑی ہوئی ہوں
آنکھ اشکوں سے دل امید سے پُر ہے
میرے خدایا تیری طلب میں میری ادائیں جو تجھ کو بھائیں تو بخش دینا

میرے خدایا حقیر احقر ہوں تیری بندی بھٹک رہی ہوں کہ كهو نہ جاؤں
تو تھام لے ہاتھ میرے مالک کہ تیرے ہونے کا احساس ہی ہے
کہ ہر آن چلنے کی جستجو ہے
مگر یہ رستہ کٹھن بہت ہے کہیں میں رستے سے ہٹ نہ جاؤں
اگر…

View original post 53 more words

%d bloggers like this: