Monthly Archives: May 2015

معصوم دل کی اک بے ضرر سی آرزو

معصوم دل کی اک بے ضرر سی آرزو ہے

جو طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو بیان کردوں

کہ یہ بے ضرر سی جو خواہشیں ہیں

ننھی کلیاں ہیں تتلیاں ہیں

رنگ برنگے پھولوں کی خوشبوئیں ہیں

حال ان کا جو پوچھو کسی عاشق بے ضرر سے

تو معصوم سے بے ضرر سے دل کی

یہ خواہشیں ہی تو راحتیں ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہار آئی بہار آئی

اک ننھی خواہش نے لی انگڑائی

پھر پنپ پڑی ہے ویران دل کے

اجاڑ آنگن کے تاریک کونے میں

اک معصوم سی بے ضرر سی خواہش

کہ اذن ہو تو چھپا کے رکھ لوں

میں آپ کی اس نظر کو جاناں

جو عطا ہوئی تھی۔۔۔دل میں اپنے بسا کے رکھ لوں

میں آپ کی اس نظر کو جاناں

جو اذن ہو تو چھپا کے رکھ لوں

%d bloggers like this: