آخر کب تک ہم محفوظ ہیں؟؟؟

میں نے یہ بلاگ پوسٹ محترم ڈاکٹر مہدی صاحب کی شہادت پر لکھی تھی۔ سانحہ گوجرانولہ کے بعد لکھنے کے لیے بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی ہمت ہی نہیں پڑی…… کل جب میر پورخاص سندھ کے ڈاکٹر محترم مبشر صاحب کی شہادت کا سنا تو پھر دل چاہا کہ کچھ لکھوں ان کے لیے۔ جماعت احمدیہ کے چوتھے امام حضرت مرزا طاہر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا وہ فقرہ بھی مسلسل ذہن میں گھومتا رہا کہ

’’انسانیت کو اس وقت انسان بننے کا پیغام دینے کی ضرورت ہے۔ انسانی قدروں کے لیے ایک عالمی سطح پر جہاد جاری کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

اور اس پر ہمارے مسلمان بھائیوں کی بظاہر بے پرواہی نے اور بھی……

خیر!!……! جب آخرکار اس سارےماحول میں لکھنے کے لیے بیٹھا تو اس مضمون پر نظر پڑی……اور اب میرے پاس مزید لکھنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

اگر اس صورت حال میں  اور اس وقت جو میں کہنا چاہتا ہوں یا جس طرف پڑھنے والوں کی توجہ دلانا چاہتا ہوں اس میں اور اس مضمون میں کچھ بدلا ہے تو وہ صرف شہید کا نام ہے………

آج پھر میرا سوال یہی ہے کہ اگر مذہبی اخلاقی انسانی اقدار اس قدر کم ہوگئیں ہیں کہ ایک کلمہ گو  کے لیے  ایک انسانیت دوست ایک انسان کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا نہیں ہوتے یا ان کا اظہار نہیں ہوتا تو

کم از  کم

ہم یہی سوچ لیں کہ یہ آگ جو ہم احمدیوں کے خلاف بھڑکا بیٹھے ہیں اور اب جس کی لپٹیں باقیوں کو بھی جھلسا رہی ہیں

ہم، ہاں ہم!

کوئی احمدی  نہیں

کوئی انسانیت کا ہمدرد نہیں

کوئی انسانیت کاخادم نہیں

کوئی مسلمان نہیں

صرف ہم! ہم ہم ہم!

آخر ہم اس آگ کی زد سے کب تک محفوظ ہیں……؟؟؟

  ظلم و بربریت کانشانہ بننے والی عورت، غیرت کے نام پر قربان کی جانے والی عورت، جائیداد بچانے کے لیے قرآن سے شادی کرادی جانے والی عورت

تعلیم کی سہولت سے محروم بچے، تعلیمی اخراجات سے محروم بچے، والدین کے گنوار پن کا شکار بچے

شدت پسندی کی بھینٹ چڑھنے والی عوام، بم دھماکوں کی زد میں آنے والے نمازی، دہشت گردی کا شکار ہونے والےشہری

جہاں صرف دولتمند کو انسان سمجھا جاتا ہے باقی عوام کو انعام کے زمرہ میں رکھ کر ان سے ہر ظلم روا رکھنا جائز بلکہ بہیمانہ سلوک کرنا مستحسن سمجھا جاتا ہے۔انہیں مارو پیٹو حتی کے قتل کردو جب تک آپ کی جیب تگڑی ہے آپ کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔

جہاں امیر دن بدن امیر تر اور غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے۔

جہاں آئے دن جمہوری حکومت کے خلاف دھرنے دیئے جاتے ہیں، ہڑتالیں ہوتی ہیں جبکہ حکمرانوں کی تمام تر پیش قدمیاں بظاہر ذاتی مفادات کی تسکین کے لیے نظر آتی ہیں۔

جہاں لوگ خود کو مسلمان کہلاتے ہیں جبکہ ان کے عمل اور ان کی حرکتیں اسلام کیا انسانیت کو بھی شرماتی ہیں۔

جہاں مریض ہسپتالوں کے بیڈ فرش اور راہداریوں میں دم توڑ رہے ہوتے ہیں جبکہ  انسانیت کی خدمت کا حلف اٹھانے والے ڈاکٹروں نے  ہڑتال کی ہوتی ہے۔

وہاں ایک ڈاکٹر آتا ہے، ایک ماہر امراض قلب۔ اور کوئی عام ماہر امراض قلب نہیں بلکہ وہ جسے اسکی قابلیت کی کو سراہتے امریکہ نے متعدد اعزازات سے نوازا ہوا ہے۔

اور وہ یہ جانتا ہے کہ اس کے مذہبی عقائد کی وجہ سے  اس کی جان و مال و عزت اس ملک میں محفوظ نہیں، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اسے لاحق خطرات کو قانون کی پشت پناہی حاصل ہے۔

یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے وہ پھر بھی آتا ہے! وہ آتا ہے کیوں کہ اپنی جان سے زیادہ اسے انسانیت سے پیار ہے، وہ آتا ہے کیوں کہ مومن بزدل نہیں ہوتا، وہ اس لیے آتا ہے کہ اس  کا ایمان اس کو بلاتا ہے کہ حب الوطن من الایمان، وہ آتا ہے کیوں کہ اس کی خدمات کسی خاص ملک یا مسلک کے لیے محدود نہیں بلکہ وہ انسانیت کا خادم ہے، وہ اس لیے آتا ہے کہ امام الزماں جس کی اس نے بیعت کی ہے ان کا فرمان ہے کہ

مرا مطلوب و مقصود و تمنا خدمت خلق است

ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسمم ہمیں راہم

اسے آئے ہوئے ابھی دو دن بھی نہیں گزرے اور وہ گیارہ گولیاں اپنے سینہ پہ لئے زمین پر لیٹاہے۔۔۔اپنی بیوی اور دو سالہ بچہ کے سامنے۔۔۔۔

اسے دن دہاڑےسٹرک پر گولیاں مار کر شہید کردیا گیا ہے۔۔۔۔۔

کیا اس نے کسی کو قتل کیا تھا؟

کیا اس نے کسی کو مارا تھا؟

کیا اس کی کسی کے ساتھ دشمنی تھی؟

کیا اس نے کسی کو لوٹا تھا؟

کیا اس نے کسی کو گالیاں دی تھیں؟

اوہ! اچھا وہ احمدی مسلمان تھا! اور۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں خوش آمدید!

جی ہاں یہاں آپ کسی کا بھی خون کبھی بھی کسی بھی جگہ مذہب کے نام پر کر سکتے ہیں اسی مذہب کے نام پر جو یہ تعلیم دیتا ہے کہ:۔

من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض۔ فکانما قتل الناس جمیعا۔المائدة

اسی طرح آپ یہاں کسی کو بھی قتل کر سکتے ہیں اس رسول ﷺ کے نام پر جو رحمة للعالمین ہے۔ وہ جس کا اعلان لا تثریب علیکم الیوم تھا، وہ  جس نے ان لوگوں کو بھی پل پھر میں معاف فرمادیا جن کی زندگی کا پل پل آپ ﷺ کے قتل کے منصوبے بنانے میں گزرا تھا۔

اس مظلوموں کے رکھوالے کے نام پر آپ کسی پر بھی ظلم کر سکتے ہیں۔

اس امن کے شہزادہ کے نام پر آپ کہیں بھی بد امنی پھیلاسکتے ہیں۔

خلاصۂ کلام یہ کہ یہ روداد کسی ایک ڈاکٹر یا کسی ایک شخص کی نہیں ہے، یہاں  کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ کئی لوگ کسی نہ کسی بہانے کسی نہ کسی آڑ میں قتل نہ کردیئے جاتے ہوں۔

سوال یہ ہے کہ ہم اس بارہ میں کیا کر رہے ہیں۔

کیا ہم صرف اس وجہ سے خاموش رہیں کہ سردست ہم محفوظ ہیں؟

لیکن پھر سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔۔

آخر کب تک ہم محفوظ ہیں؟؟؟

Advertisements

Tagged: , , , , , , , , ,

One thought on “آخر کب تک ہم محفوظ ہیں؟؟؟

  1. Afzaal sidhu 10 PMpMon, 02 Jun 2014 23:28:01 +000028Monday 2013 at 11:28 pm Reply

    Toooooooo Good

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: