ملنگ وجود


ملنگ وجود

ایک روز دفتر میں اپنی کرسی پہ بیٹھا میں کسی تحقیقی کام میں مصروف تھا کہ ایک آہٹ تیز تیز قدم اٹھنے کی مجھے اپنی جانب بڑھتی محسوس ہوئی۔ میں نے یکسوئی قائم کرنے کے لیے سر کو تھوڑا اور کتاب پہ جھکا لیالیکن میری یہ کوشش اس وقت بے سود ثابت ہوگئی جب کسی ہاتھ نے میرا کندھا پکڑ کے جھنجوڑا اور میرے مڑ کے دیکھنے پر پوچھاکہ ’’کیا کر رہے ہو؟‘‘

اس سے قبل کے میں کچھ کہہ پاتا اس نے میرے سامنے پڑی کتاب ذرا ضدی سے لہجہ میں یہ کہتے ہوئے بند کردی کہ ’’چھوڑو یہ کیا کر رہے ہو‘‘

میری آنکھیں جو مسلسل اس کے چہرہ پہ ٹکی ہوئی تھیں ، کی حیرانی ختم نہ ہوئی تھی کہ بے پناہ معصومیت سے کہ جس کے آگے سنگ دل ہی کیا سنگ بھی پگل جائے مہین سی آواز میں بولا ’’آؤ چھم چھم کھیلیں۔۔۔۔۔‘‘ !!!

میری آنکھوں کی بھنویں یہ سنتے ہی اوپر ہوئیں جیسے پوچھ رہی ہوں کہ ’’کیا!‘‘۔

وہ بھی آنکھوں کااشاہ سمجھتے ہوئے اس بار ذرا ناز سے بولا’’چھم چھم کھیلیں۔۔!‘‘

اس سے پہلے کہ میرے دل و دماغ کے تار باہم مل کے اس کی بات کا کچھ جواب دیتے اس کے چہرے پہ اداسی کے اثار ظاہر ہونے شروع ہوگئے۔۔۔

میری مناسب الفاظ کے انتخاب کی کوششیں اور بھی تیز ہوگئیں ۔۔۔لیکن اس کے چہرے کی اداسی نے کرب کی صورت دھار لی۔۔۔

اس وقت مجھے بات کرنے کے لیے اپنے دونوں ہونٹوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا۔۔۔

شاید وہ میری بے بسی کی کیفیت کو بھانپ گیا تھا۔۔۔یا شاید اس نے میری بے کسی کو انکار پر محمول کر لیا تھا۔۔۔

اور پھر وہی آہٹ اس کے دور جانے کی۔۔۔لیکن اب کی بار ایک آہٹ سے دوسری آہٹ کا فاصلہ پہلے سے بہت بڑھ گیا تھا۔۔۔جوتوں کی گھسٹ قدموں کا بوجھل پن بتانے کے لیے کافی تھی۔۔۔

میں اسے روکنا چاہتاتھا لیکن۔۔۔اس بار بھی الفاظ کے انتخاب میٍں ناکامی نے میرا سر نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب پر جھکا دیا۔۔۔

Advertisements

Tagged:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: