امید

امید

احساس محرومی شاید اس زندگی کا سب سے بوجھل احساس ہے

کوئی لاکھوں میل دور کیوں نہ چلا جائے لیکن اس کے واپس آنے کی امیداگر  ہو تو یہ دوریاں بھی کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔

یہ امید دل کو مطمئن رکھتی ہےچاہے اس کے واپس آنے کا وعدہ سالوں بعد کا ہی کیوں نہ ہو۔

وہ گھر دل کو دلاسا دیتا ہے جس میں وہ رہتا تھا

وہ گلیاں دل کو حوصلہ دیتی ہیں جہاں سے وہ گزرا کرتا تھا

اس سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنے والی ہر چیز اس کی سنہری یاد بن جاتی ہے

 موسم کی شدت زمانہ کی گردش حالات کا اتار چڑھاؤ سب کچھ انسان اس ایک امید کے سہارے جو کسی دن یا ایک نہ ایک دن کسی کے واپس آجانے کی ہوتی ہیں برداشت کر لیتا ہے

لیکن اگر اس امید کی جگہ کسی جانے والے کے کبھی نہ لوٹنے کا احساس ہو تو پھر چاہے اس سے فاصلہ چند قدموں کا ہی کیوں نہ ہو سانس لینا مشکل کر دیتا ہے

اس گھر میں رہنا محال ہوجاتا ہے جہاں وہ رہتا تھا ان گلیوں میں چلنا مشکل ہوجاتا ہے جہاں سے وہ گزرتا تھا

اس سے تعلق رکھنے والی ہر چیز ماضی کی ایک تاریک حقیقت لگنے لگتی ہے

اس تاریک حقیقت میں اس کے لوٹ آنے کی امید روشنی کا وہ دیا ہے جس کی لو چاہے کتنی ہی مختصر کیوںٍ نہ ہو مگر تاریکی کو بھگا دیتی ہے۔

لیکن اگر امیدیں دم توڑ جائیں تو سانسوں کا جسم سے مضبوط ترین رشتہ بھی خزاں میں پتوں اور شاخوں یا ہونٹوں اور پھیکی مسکراہٹ کے رشتے کی طرح کمزور تر ہوتا چلا جاتا ہے۔۔۔

Advertisements

Tagged:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: