ملالہ نوبل انعام اور مختلف رد عمل

ملالہ نوبل انعام اور مختلف رد عمل

ملالہ یوسف زئی، پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک ہونہار شخصیت تب سے خبروں کا حصہ بنی ہوئی ہے جب سے اس پر  بقول اخبارات و رسائل اور تقریبا تمام پاکستانی ٹی وی چینلز کےعورتوں کی تعلیم کے فروغ کے سلسلہ میں جد و جہد کرنے کی وجہ سے قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔

اس بات میں کتنی صداقت ہے یہ میرا موضوع بحث نہیں۔ میں ملالہ کے نوبل انعام کے امیدوار بننے سے لے کر اس کے نوبل انعام جیتنے میں ناکامیاب ہونے تک، پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ ایسا کرنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔

ملالہ جب جب نوبل انعام کی امیدوار نامزد ہوئی تو تین مختلف سوچیں سامنے آئیں۔

1۔روایتی طالبانی سوچ جو سرار ملالہ کی مخالفت پر مبنی تھی۔ جس تعلق نوبل انعام یا کسی اور ایوارڈ سے نہیں بلکہ ملالہ کی شخصیت سے تھا جس کی نظر میں ملالہ کی ذات ہی واجب القتل تھی۔

2۔ملالہ کے حمایتی طبقہ کی ایک حد تک مثبت سوچ کہ ملالہ کو ضرور یہ انعام ملنا چاہیئے کیوں کہ اس نے ہمت دکھائی ہے اور تعلیم نسواں کے لیے ایسی کوشش کی ہے کہ جس پر اس کو نوبل انعام ملنا بنتا ہے۔ اس سوچ کا حامل طبقہ اس بات کا بھی قائل تھا کہ ملالہ کو نوبل انعام ملنا پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔

3۔حقیقت پسند سوچ کہ ملالہ بلاشبہ ایک نیک دل، باہمت، پرعزم، خیالات کو عملی اقدامات کا جامہ پہنانے والے لڑکی ضرور ہے لیکن نوبل انعام کی مستحق بہرحال نہیں تھی۔

میرا نظریہ بھی یہی ہے کہ ملالہ کی خدمات کے جتنے مثبت پہلو دیکھ لیے جائیں وہ نوبل انعام کی حقدار بہرحال نہیں ٹھہرتی۔کیوں کہ ملالہ نےجو کام کیے ہیں یا جو کام وہ کر رہی ہے وہ بہت اچھے کام تو کہلا سکتے ہیں لیکن اتنے اچھے بہرحال نہیں ہیں کہ ان پر اسے نوبل انعام دے دیا جائے۔

پاکستان میں اگر انسانیت کی خدمت کے حوالہ سے دیکھا جائے تو اور بہت شخصیات نظر آجائیں گی جن کی عمریں فلاح و بہبود کے کام کرتے گزری ہیں اور پوری قوم اور دنیا انکی خدمات کی معترف ہے۔مثلا عبدالستار ایدھی صاحب کو لے لیں ملالہ کی خدمات عبدالستار ایدھی صاحب کے سامنے بالکل معمولی نظر آتی ہیں۔ آپ وہ انسان ہیں جن کی وجہ سے آج تک لاکھوں انسانوں کی جانیں بچ چکی ہیں۔تو اگر پاکستان میں کوئی واقعی نوبل انعام کا مستحق ہے تو وہ ایدھی صاحب ہیں۔

اسی طرح ملالہ کو ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کےساتھ کھڑا کرنا میری نظر میں کم علی، ناانصافی اور غیر اخلاقی حرکت ہے۔

کہاں ڈاکٹر صاحب اور کہاں ملالہ! کوئی دور دراز کا جوڑ بھی نہیں ہے۔ دونوں کی خدمت کا میدان مختلف دونوں کی قابلیت مختلف، اور اگر کہا جائے کہ دونوں ہیرو ہیں اس لیے ملالہ کو ان کے ساتھ کھڑا کیا جاسکتا ہے تو یہ بھی بیوقوفی تو ہو سکتی ہے لیکن حقیقت گوئی بہرحال نہیں ہے، ایک بندہ جس کی سالوں پر محیط ثابت شدہ علمی اور عملی کوششیں ہیں اور دوسری طرف صرف چند ماہ کی تگ و دو جو کہ اپنی ذات میں ہی اختلافات کا شکار ہے، دونوں ایک ہی زمرے میں کس طرح آسکتے ہیں۔

اسی طرح ملالہ کے حمایتوں کی طرف سے ملالہ کو نوبل انعام کا حقدار نہ سمجھنے والوں کے خلاف کہ جو اپنے ساتھ عقلی دلائل بھی رکھتے ہیں، جارحانہ رویہ اور جملہ بازی اور انہیں طالبان کا نام دینا بھی کافی تکلیف دہ امر رہا ہے۔ میری ذاتی نظر میں حقیقی طالبان تو یہ ہیں جو مختلف رائے بھی برداشت نہیں کرسکتے اور تعصب پرستی کے الزامات لگانے میں ذرا دیر نہیں کرتے۔

دوسری طرف یہ نظریہ رکھنا کہ کیوں کہ پاکستانیوں نے ڈاکٹر عبدالسلام کی قدر نہیں کی اس لیے ملالہ کو نوبل انعام نہیں ملا یا جب تک پاکستان ڈاکٹر عبدالسلام کو  قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا کسی پاکستانی کو نوبل انعام نہیں ملے گا، بھی میری نظر میں ایک غلط نظریہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی ناقدری کا کسی اور کو نوبل انعام ملنے یا نہ ملنے سے کوئی تعلق نہیں۔ کیوں کہ خدا تعالی فرماتا ہے جو محنت کرے گا ہم اسے اس کی جزا دیں گے۔ اس لیے میرے خیال میں ایسی سوچ رکھنا دوسری انتہاء ہے۔

اور ملالہ کی ذات سے یا عورت ذات سے نفرت رکھنے والے طبقہ کے بارہ میں بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ میری نظر میں اس سارے معاملہ میں سیاست شامل تھی یا نہیں تھی کوئی اندرونی یا بیرونی ہاتھ تھا یا نہیں تھا، بہر صورت ملالہ کی خدمات اس قابل نہیں ہیں کہ جن کی بنیاد پر اس نوبل انعام دے دیا جاتا۔

یہ بالکل ٹھیک ہے کہ ملالہ کو نوبل انعام ملنے کی صورت میں ہمارے ملک کا نام بھی روشن ہوتا۔ ہمارے ملک کا نام ضرور روشن ہوتا، لیکن صرف یہاں اتنا سا سوال کرنا چاہتا ہوں کہ دیانتداری اور حقیقت پرستی کے بھی کچھ تقاضے ہیں یا نہیں؟ اپنے نفس کی پکار اور ضمیر کی آواز کے نعرے ہم میں سے ہر محب وطن پاکستانی شہری شب و روز لگاتا ہے تو کیا یہ انعام اس کے مستحق کو نہ ملنے اور غیر حقدار کو ملنے کی صورت میں ہمارے ضمیر کی تسکین ہوجاتی؟

ملالہ کی خدمات چاہے وہ جس پس منظر میں بھی ہیں قدر کی ناگاہ سے دیکھے جانے کے قابل ہیں۔ اللہ اسے ملک انسانیت اور عورتوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کی توفیق دے۔اور اس کے الفاظ کھوکھلے نہ رہیں بلکہ حقیقت کا روپ دھارنے والے ہوں۔ آمین

Advertisements

Tagged: , , , , , , , , ,

2 thoughts on “ملالہ نوبل انعام اور مختلف رد عمل

  1. Maria8_ch 10 PMpFri, 11 Oct 2013 21:14:54 +000014Friday 2013 at 9:14 pm Reply

    Exactly ! you have very nicely put my thoughts to words Brother 🙂 May Allah Bless You for Your Efforts Ameen 🙂

    • Luqman Saqib 10 PMpFri, 11 Oct 2013 21:34:35 +000034Friday 2013 at 9:34 pm Reply

      jazakAllah 🙂

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: