Monthly Archives: October 2013

ملنگ وجود


ملنگ وجود

ایک روز دفتر میں اپنی کرسی پہ بیٹھا میں کسی تحقیقی کام میں مصروف تھا کہ ایک آہٹ تیز تیز قدم اٹھنے کی مجھے اپنی جانب بڑھتی محسوس ہوئی۔ میں نے یکسوئی قائم کرنے کے لیے سر کو تھوڑا اور کتاب پہ جھکا لیالیکن میری یہ کوشش اس وقت بے سود ثابت ہوگئی جب کسی ہاتھ نے میرا کندھا پکڑ کے جھنجوڑا اور میرے مڑ کے دیکھنے پر پوچھاکہ ’’کیا کر رہے ہو؟‘‘

اس سے قبل کے میں کچھ کہہ پاتا اس نے میرے سامنے پڑی کتاب ذرا ضدی سے لہجہ میں یہ کہتے ہوئے بند کردی کہ ’’چھوڑو یہ کیا کر رہے ہو‘‘

میری آنکھیں جو مسلسل اس کے چہرہ پہ ٹکی ہوئی تھیں ، کی حیرانی ختم نہ ہوئی تھی کہ بے پناہ معصومیت سے کہ جس کے آگے سنگ دل ہی کیا سنگ بھی پگل جائے مہین سی آواز میں بولا ’’آؤ چھم چھم کھیلیں۔۔۔۔۔‘‘ !!!

میری آنکھوں کی بھنویں یہ سنتے ہی اوپر ہوئیں جیسے پوچھ رہی ہوں کہ ’’کیا!‘‘۔

وہ بھی آنکھوں کااشاہ سمجھتے ہوئے اس بار ذرا ناز سے بولا’’چھم چھم کھیلیں۔۔!‘‘

اس سے پہلے کہ میرے دل و دماغ کے تار باہم مل کے اس کی بات کا کچھ جواب دیتے اس کے چہرے پہ اداسی کے اثار ظاہر ہونے شروع ہوگئے۔۔۔

میری مناسب الفاظ کے انتخاب کی کوششیں اور بھی تیز ہوگئیں ۔۔۔لیکن اس کے چہرے کی اداسی نے کرب کی صورت دھار لی۔۔۔

اس وقت مجھے بات کرنے کے لیے اپنے دونوں ہونٹوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا۔۔۔

شاید وہ میری بے بسی کی کیفیت کو بھانپ گیا تھا۔۔۔یا شاید اس نے میری بے کسی کو انکار پر محمول کر لیا تھا۔۔۔

اور پھر وہی آہٹ اس کے دور جانے کی۔۔۔لیکن اب کی بار ایک آہٹ سے دوسری آہٹ کا فاصلہ پہلے سے بہت بڑھ گیا تھا۔۔۔جوتوں کی گھسٹ قدموں کا بوجھل پن بتانے کے لیے کافی تھی۔۔۔

میں اسے روکنا چاہتاتھا لیکن۔۔۔اس بار بھی الفاظ کے انتخاب میٍں ناکامی نے میرا سر نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب پر جھکا دیا۔۔۔

Advertisements

امید

امید

احساس محرومی شاید اس زندگی کا سب سے بوجھل احساس ہے

کوئی لاکھوں میل دور کیوں نہ چلا جائے لیکن اس کے واپس آنے کی امیداگر  ہو تو یہ دوریاں بھی کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔

یہ امید دل کو مطمئن رکھتی ہےچاہے اس کے واپس آنے کا وعدہ سالوں بعد کا ہی کیوں نہ ہو۔

وہ گھر دل کو دلاسا دیتا ہے جس میں وہ رہتا تھا

وہ گلیاں دل کو حوصلہ دیتی ہیں جہاں سے وہ گزرا کرتا تھا

اس سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنے والی ہر چیز اس کی سنہری یاد بن جاتی ہے

 موسم کی شدت زمانہ کی گردش حالات کا اتار چڑھاؤ سب کچھ انسان اس ایک امید کے سہارے جو کسی دن یا ایک نہ ایک دن کسی کے واپس آجانے کی ہوتی ہیں برداشت کر لیتا ہے

لیکن اگر اس امید کی جگہ کسی جانے والے کے کبھی نہ لوٹنے کا احساس ہو تو پھر چاہے اس سے فاصلہ چند قدموں کا ہی کیوں نہ ہو سانس لینا مشکل کر دیتا ہے

اس گھر میں رہنا محال ہوجاتا ہے جہاں وہ رہتا تھا ان گلیوں میں چلنا مشکل ہوجاتا ہے جہاں سے وہ گزرتا تھا

اس سے تعلق رکھنے والی ہر چیز ماضی کی ایک تاریک حقیقت لگنے لگتی ہے

اس تاریک حقیقت میں اس کے لوٹ آنے کی امید روشنی کا وہ دیا ہے جس کی لو چاہے کتنی ہی مختصر کیوںٍ نہ ہو مگر تاریکی کو بھگا دیتی ہے۔

لیکن اگر امیدیں دم توڑ جائیں تو سانسوں کا جسم سے مضبوط ترین رشتہ بھی خزاں میں پتوں اور شاخوں یا ہونٹوں اور پھیکی مسکراہٹ کے رشتے کی طرح کمزور تر ہوتا چلا جاتا ہے۔۔۔

%d bloggers like this: