کس حال میں ہیں یاران وطن

کس حال میں ہیں یاران وطن

پہلا منظر

رات کا اندھیرا بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اور بھی سیاہ معلوم ہورہا ہے………رات کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے شہر کے متبادل ذریعہ توانائی رکھنے والے گھرانتہائی دلکش منظر پیش کر رہے ہیں……اس گھر میں جنریٹر یا یو پی ایس کی سہولت موجود نہیں لیکن ایک کمرے میں گیس لیمپ ضرور جل رہا ہے……جہاں ایک عورت قرآن کریم کی تلاوت کر رہی ہے…… ساتھ ہی ایک بچہ لیٹا ہوا ہے اور کھڑی کے ساتھ والی چارپائی پر ایک پکی عمر کی لڑکی گرمی کی وجہ سے کروٹیں بدل رہی ہے……فجر کی اذان کی آواز آتی ہے……عورت قرآن کریم کو لحاف میں ڈال کے بوسہ دینے کے بعد شیلف میں رکھ کے صحن کی طرف بڑھتے ہوئے……

’’بیٹا اٹھو نماز کا وقت ہوگیا ہے……‘‘


صحن میں لیٹا ہوا نوجوان اپنا منہ کھیس میں لے کے کروٹ بدل لیتا ہے

عورت نوجوان کے سرہانے بیٹھ جاتی ہے

اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگ جاتی ہے……

’’چل اٹھ میرا بیٹا…شاباش‘‘

’’سونے دے ناں اماں ابھی تو نیند آئی ہے!‘‘

’’بیٹا صبح اٹھ کے اللہ رسول کا نام لینے سے سارے کام سنور جاتے ہیں دن اچھا گزرتا ہے‘‘

نوجوان مایوس لہجے میں……’’بس کر اماں جتنے کام سنورنے ہیں ہمارے پتا ہے مجھے! کوئی کم نمازیں نہیں پڑھیں

ساری عمر تو نے،، کتنے کام سنورے ہیں تیرے……‘‘

عورت غصے سے کھیس کھینچ لیتی ہے۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس کے لہجے میں ہمدردی اور شفقت عود آتی ہے……ایک

پھیکی سے مسکراہٹ منہ پر سجا کے کہتی ہے……’’خدا کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں……‘‘

’’اچھا اماں اٹھ رہا ہوں‘‘ یہ کہتے ہوئے نوجوان چارپائی پر ٹانگیں لٹکا کے بیٹھ جاتا ہے…

’’اب کیا ہوا‘‘ عورت پوچھتی ہے

’’کچھ نہیں اماں……‘‘ اداسی بھرے لہجے میں یہ کہہ کے بوجھل قدموں سے ایک طرف چل پڑتا ہے……
ساتھ ہی کمرے سے لڑکی اپنے بال سمیٹتے ہوئے باہر آتی ہے…غسل خانہ کا دروازہ بند دیکھ کے باورچی خانے کی طرف بڑھتی ہے

نوجوان وضو کر کے نماز کے لیے نکلنے لگتا ہے تو ماں اس کے پیچھے دروازے تک جاتی ہے……اور ایسے ڈرتے ہوئے دبی ہوئی آواز میں اس سے کہتی ہے جیسے کوئی گناہ کرنے لگی ہو…… ’’وہ بیٹا……آٹا……ختم ہوا ہوا ہے…اگر تمہارے چچا نماز پہ……‘‘

’’اماں اور کتنا ذلیل کرواؤگی چچا سے!‘‘ نوجوان فوراً عورت کی بات کاٹ دیتا ہے

’’وہ سلام بعد میں لیتے ہیں قرض کا طعنہ پہلے مارتے ہیں…‘‘

دونوں ماں بیٹا چپ ہیں……کچھ دیر بعد نوجوان کہتا ہے

’’اچھا ماں تو پریشان نہ ہو میں کچھ کرتا ہوں‘‘ یہ کہہ کے نماز کے لیے چلا جاتا ہے

لڑکی ابھی تک باورچی خانے میں ہی ہے۔ ماں دروازے پاس اور بچہ بستر پہ……

دوسرا منظر

پہلا آدمی: السلام علیکم !کیا حال ہے بچے کیسے ہو؟
نوجوان: ٹھیک ہوں انکل اللہ کا شکر ہے۔
پہلا آدمی: بھئ تمہیں دیکھ کہ طبیعت خوش ہوجاتی ہے۔ ما شاءاللہ ایک عرصے سے باقاعدہ صبح کی نماز پہ آتے ہو
نوجوان:شکریہ
دوسرا آدمی مسجد کی طرف جانے والی گلی میں داخل ہوتے ہوئے: اللہ جنت نصیب کرے ان کے والد محترم کو انہوں نے بھی کبھی پنجوقتہ نماز میں ناغہ نہیں کیا تھا
نوجوان: السلام علیکم چچا…
دوسرا آدمی: تھوڑے دن ہی رہ گئے ہیں تنخواہ ملنے میں اس بار امید ہے کہ میرا کام ہوجائے گا؟
نوجوان: جی چچا میں پوری کوشش کروں گا
تینوں مسجد میں داخل ہوجاتے ہیں

تیسرا منظر


مسجد سے ایک بھیانک بلند اور گرجدار آواز آتی ہے اور ساتھ ہی نمازیوں کی چیخیں!!!
ایک اور خود کش حملہ……
(مسجد کا فرش خون کم اور انسانی اعضا کے ٹکڑے زیادہ ہیں……کٹے ہوئے ہاتھ…بازو…سر…ٹانگیں…انگلیاں…)
کوئی پولیس کو فون کرو! کوئی ایمبولینس کو بلاؤ!
جن میں تھوڑی سکت باقی ہے وہ باقیوں کو روندتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ ان کے پیروں تلے کچلے جانے والے سینوں میں سانس باقی ہے یا نہیں۔اور اگر کسی کی روح جسم کے ساتھ تھی بھی تو اب کیا فرق پڑتا ہےاتنی بار کچلے جانے سے وہ رشتہ یقینا ٹوٹ چکا ہے

چوتھا منظر


عورت: فکر مندانہ انداز میں ’’بیٹا ذرا بھائی کو فون تو کرو ابھی تک آیا کیوں نہیں……‘‘
لڑکی: امی کیا ہے۔ بیل ہو رہی ہے پر بھائی فون نہیں اٹھا رہا…………

یہ صرف ایک متاثرہ گھر کی منظر کشی ہے…… ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف 2013ء میں 1500 گھرانے اس قسم کے واقعات کا شکار ہوئے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون……
کسی بھی حادثے میں زخمی یا شہید ہونے والا فرد اکیلا نہیں مرتا……اکثر اوقات اس کے ساتھ سارے گھرانے کی موت ہوجاتی ہے……اگر صدمے سے نہ بھی مریں تو بھوک زندہ نہیں چھوڑتی……
اسی لیے اللہ تبارک و تعالی نے فرقان حمید میں فرمایا ہے کہ کسی ایک معصوم جان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور کسی ایک جان کو زندگی بخشنا پوری انسانیت کو زندہ کرنا ہے……
اور میں جس ملک میں رہتا ہوں وہاں تو انسانیت روز قتل ہوتی ہے…… بلکہ دن میں کئی کئی بار بار قتل ہوتی ہے……
کبھی ٹارگٹ کلنگ کے ہاتھوں……کبھی بم دھماکوں کی زد میں آ کر……کہیں خود کش حملہ آوروں بھینٹ چڑھ کے ……کہیں نسل پرستی کا شکار ہو کر اور کہیں مذہبی تعصب کی لپٹ میں آکر……لکڑی کوئلوں کی آگ سے بچنا تو شاید پھر بھی ممکن ہو لیکن فتنے کی آگ جلا کر ہی دم لیتی ہے……اور اسی آگ میں جل رہے ہیں یاران وطن ……

Advertisements

Tagged:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: