Monthly Archives: June 2013

Germany main Ahmadiyyat ki ibteda

حضرت مصلح موعودؓ رماتے ہیں:۔

’’ہمارافرض ہے کہ ہم دنیاکو اس غلطی سے آگاہ کریں اور تبلیغ اسلام کے متعلق زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔اس جنگ (جنگ عظیم دوئم)کے بعد کم سے کم دو ملک ایسے تیار ہوجائیں جو ہماری باتوں پر سنجیدگی سے اور متانت کے ساتھ غور کریں گے یعنی جرمنی اور جاپان۔یہ دونوں ملک ایسے ہیں جو ہماری باتیں سننے کے لئے تیار ہوجائیں گے خصوصاً جرمنی ایک ایسا ملک ہے جو اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتاہے۔‘‘

(مشعل راہ جلد 1 صفحہ377)

حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے سفر یورپ کے دوران جرمنی میں ہمبرگ کی مقامی جماعت کی طرف سے دی جانے والی دعوت کے دوران فرمایا:۔

’’جرمن قوم کا کیرکٹربلندہے اور انہوں نے ہمبرگ شہر کو اتنی جلدی تعمیر کرلیاہے۔۔۔۔جرمن قوم اس زندہ روح کے ساتھ ضرور جلد از جلد اسلام کو جو خود اسی روح کو بلند کرنے کے لئے تعلیم دیتاہے قبول کرے گی ۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد17صفحہ 533-532)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی ایک مبشر خواب:۔

’’ ایک جگہ ہے وہاں ہٹلر بھی موجود ہے اوروہ حضور سے کہتا ہے کہ آئیں میں آپ کو اپنا عجائب خانہ دکھاؤں ۔ چنانچہ وہ حضور کو ایک کمرہ میں لے گیا جہاں مختلف اشیاء پڑی ہیں۔ کمرہ کے وسط میں ایک پان کی شکل کا پتھر ہے جیسے دل ہوتا ہے۔ اس پتھر پر لَا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے ۔ حضور نے اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرمن قوم اگرچہ اوپر سے پتھر دل یعنی دین سے بیگانہ نظر آتی ہے مگراس کے دلوں میں اسلام قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 13صفحہ155)

اہل جرمنی کے دل میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ  اور احمدیت کی محبت اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعودؑ کے کے زمانہ میں ہی ڈال تھی۔ چنانچہ حضرت ایک جرمن عورت نے حضرت مسیح موعودؑ کو خط لکھا جس لکھا جس کا ذکر درج ذیل ہے:۔

’’ملک جرمنی کے شہر پاسنگ سے ایک لیڈی مسمات مسز کیرولائین کا ایک خط حضرت اقدس مسیح موعود کی خدمت میں گذشتہ ڈاک ولائیت میں پہنچاہے جس سے ظاہر ہے کہ اس سلسلہ کی اشاعت ان ممالک میں بھی اپناقدم رکھے ہوئے ہے۔لیڈی صاحبہ تحریرفرماتی ہیں۔’’میں کئی ماہ سے آپ کا پتہ تلاش کررہی تھی تاکہ آپ کو خط لکھوں اور آخرکار ا ب مجھے ایک شخص ملا ہے جس نے مجھے آپ کا ایڈریس دیاہے (ایڈریس لفافہ پر اب بھی یہ ہے۔بمقام قادیان علاقہ کشمیر ملک ہند ایڈیٹر)میں آپ سے معافی چاہتی ہوں کہ میں آپ کو خط لکھتی ہوں لیکن بیان کیا گیاہے کہ آپ خداکے بزرگ رسول ہیں اور مسیح موعود کی قوت میں ہوکر آئے ہیں اور میں دل سے مسیح کو پیار کرتی ہوں مجھے ہند کے تمام معاملات کے ساتھ اور بالخصوص مذہبی امور کے ساتھ دل چسپی حاصل ہے۔میں ہند کے قحط۔ بیماری اور زلازل کی خبروں کو افسوس کے ساتھ سنتی ہوں اور مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ مقدس رشیوں کا خوبصورت ملک اس قدر بت پرستی سے بھراہواہے۔ہمارے لارڈ اور نجات دہندہ مسیح کے واسطے جو اس قدر جوش آپ کے اندر ہے۔اس کے واسطے میںآپ کو مبارکباد کہتی ہوں اور مجھے بڑی خوشی ہوگی کہ اگر آپ چند سطور اپنے اقوال کے مجھے تقریر فرمادیں۔میں پیدائش سے جرمن ہوں اور میراخاوند انگریزتھا۔اگرچہ آپ شاندار قدیمی ہندوستان قوموں کے نور کے اصلی پوت ہیں۔تاہم میراخیال ہے کہ آپ انگریزی جانتے ہوں گے۔اگر ممکن ہوتو مجھے اپناایک فوٹو ارسال فرماویں۔کیا دنیا کے اس حصہ میں آپ کوئی خدمت کرسکتی ہوں۔

آپ یقین رکھیں پیارے مرزاکہ میں آپ کی مخلصہ دوست ہوں۔

مسز کیرولائین‘‘
(بدرقادیان جلد6نمبر11مورخہ14مارچ 1907ء صفحہ2 کالم 2-3)

جرمنی میں باقاعدہ جماعت کا قیام:۔1923ءکے آخر میں مولوی مبارک علی صاحب بی۔ اے بنگالی اورملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کی کوشش سے اسلامی مشن جرمنی میں قائم ہوا۔

مولوی مبارک علی صاحب جو 1920ء سے لنڈن میں تبلیغ اسلام کر رہے تھے۔ لنڈن سے سیدھے برلن بھجوائے گئے اورملک غلام فرید صاحب ایم اے کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے قادیان سے بتاریخ 26نومبر 1923ء کو روانہ فرمایا۔ جو 18؍دسمبر1923ء کو صبح دس بجے برلن پہنچے۔

جرمنی میں سب سے پہلے پروفیسر فرنیزی ایل۔ ایل۔ ڈی اور ڈاکٹر اوسکا جیسے قابل مصنفوں کو احمدیت کی طرف توجہ ہوئی اوران کے دیکھا دیکھی برلن کے کالجوں کے پروفیسر اورطلباء میں بھی تحقیق سلسلہ کی جستجو پیدا ہو گئی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کاا رادہ یہاں شاندار اسلامی مرکز قائم کرنے کا تھا اور اسی لئے مسجد برلن کی تحریک بھی آپ نے فرمائی مگر جرمنی کے حالات یکایک بدل گئے۔ کاغذی روپیہ عملی طور پر منسوخ کر دیا گیا اور سونے کا سکہ جاری کیا گیا۔ جس کی وجہ سے قیمتوں میں دو تین سو گنا اضافہ ہو گیا۔ ایک طرف مبلغ کا خرچ 6پونڈ کی بجائے کم از کم 25پونڈ تک جاپہنچا۔ دوسری طرف مسجدبرلن کی تعمیر کے لے جس کا پہلے تیس ہزار روپیہ کا اندازہ کیا گیا تھا پندرہ لاکھ روپے کے اخراجات بتائے جانے لگے۔ان حالات کی بناء پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تعمیر مسجد کا کام ملتوی کرا دی۔

(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ411-412)

اس کے بعد  20 جنوری 1949ء کو چوہدری عبداللطیف صاحب بی ۔ اے واقف زندگی کے ہاتھوں 25 سال بعد دوبارہ اس مرکز کا احیاء ہوا۔ چوہدری صاحب نے ہمبرگ میں اپنا تبلیغی مرکز قائم کیا۔ شروع میں آپ کچھ عرصہ جرمن زبان سیکھتے اور اس دوران میں انگریزی سے کام چلاتے رہے۔ 24مئی1949ء کو آپ نے وسط شہر کی ایک سرکاری عمارت (DEBNICKE) کے وسیع ہال میں پہلا تبلیغی اجلاس منعقد کیا۔ علاوہ ازیں یونیورسل لیگ اور ہمبرگ سٹڈی کلب کے زیر اہتمام آپ کے لیکچر بھی ہوئے۔ چوہدری صاحب نے تقریر کے بعد تحریر کی طرف توجہ دی۔ زیورک سے حضرت المصلح الموعودؓ کی تالیف The Life and Teachings of Prophet Mohammadکا جرمن ترجمہ شائع کیا۔ یہ سلسلہ احمدیہ کی پہلی کتاب تھی جو مشن کے اس دور میں شائع ہوئی۔سوئٹزر لینڈ مشن کی مساعی سے بعض جرمن قبل ازیں قبولِ اسلام کر چکے تھے جن میں سے عبدالکریم ڈنکر نے نمایاں اخلاص کا ثبوت دیا اور وہ مبلغ جرمنی کے دست و بازو بن گئے۔18 اکتوبر کو مسٹر Hans Dunger اور 25نومبر کو مسٹر E. Nowak حلقہ بگوش احمدیت ہوئے جن کا اسلامی نام بالترتیب عبدالحمید اور عبدالرحیم رکھا گیا۔ اس طرح پہلے سال ہی ایک مختصر سی جماعت کی داغ بیل پڑ گئی۔

(تاریخ احمدیت جلد 13 صفحہ 137-138)

جرمنی میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد:۔

جرمنی میں مسجد کی تحریک حضرت مصلح موعودؓ نے تب ہی فرمادی تھی جب حضرت مولوی مبارک علی صاحب بی۔ اے بنگالی اورملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے کو تبلیغ کے لیے جرمنی بھیجا گیا تھا اور یہ ذمہ داری حضور نے احمدی خواتین کے سپرد کی تھی۔ اور احمدی عورتوں نے جس رنگ میں اس تحریک پر لبیک کہا وہ قرون اولی کی صحابیات کی یاد تازہ کردیتاہے۔ زیور، قیمتی سامان،قیمتی کپڑے اور جمع پونجی مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ میں دے دی گئی۔لیکن حالات کی تبدیلی کی وجہ سے خرچ کافی زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے اس وقت مسجد کا قیام عمل میں نہ آسکا۔پھر 26جون 1955کو حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے قیام ہمبر گ کے درمیان جرمنی میں جلد مسجد تعمیر کرنے کا شادفرمایا۔سو خداتعالیٰ نے حضور کی یہ مبارک خواہش دو سال کے اندر اندر پوری فرمادی۔22فروری 1957ء کو ہمبرگ مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور 22جون 1957ء کو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس کا افتتاح فرمایا۔

(تاریخ احمدیت جلد نمبر13صفحہ148)

جلسہ سالانہ جرمنی:۔

جرمنی کا پہلا جلسہ سالانہ 1976ء میں ہیمبرگ میں منعقد ہوا۔ 1980ء سے جلسہ سالانہ جرمنی فرینکفورٹ میں منعقد ہورہے ہیں۔

(المحراب۔سواں جلسہ سالانہ نمبر 1991-1891 صفحہ 219۔لجنہ اماء اللہ کراچی)

جلسہ سالانہ جرمنی 1989ء ایک بڑی ہمیت کا حامل اس لحاظ سے ہے کہ یہ احمدیت کی دوسری صدی کا پہلا جلسہ سالانہ ہے جس میں خلیفہء وقت نے شرکت فرمائی۔

(المحراب۔سواں جلسہ سالانہ نمبر 1991-1891 صفحہ 219۔لجنہ اماء اللہ کراچی)

جرمنی کی زمین کو چار خلفاء احمدیت کی قدم بوسی،خاص توجہ اور براہ راست ہدایات لینے کا شرف حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان میں برکت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

%d bloggers like this: