میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہےہیں

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہےہیں

زبانیں تھک گئیں نیا پاکستان نیا پاکستان کے نعرے لگاتے لگاتے اور گلے بھی خشک ہوگئے۔ ایک دم پانی پینے کی فرصت نہیں کہ مبادا اس غیوبت سے نیا پاکستان تعمیر ہونے سے رہ نہ جائے۔
موجودہ اور پرانی اور نئی پاکستانی سیاسی پارٹیاں تھک گئیں ملک و قوم کی خدمت کرنے کے جذبہ کے تحت ایک دوسرے پر الزامات لگا لگا کر۔
سونامی بھی آئے قلعے بھی بنے اور ‘‘اپنے زعم میں ’’ مثالی ترقیاتی منصوبے بھی تمام ہوئے۔
اور بقول بعض روٹی کپڑا مکان بھی مہیا کیا گیا۔
تعلیم یافتہ نوجوان نسل، روزگار کی فکروں سے آزاد نسل، دنیا کے افق پہ چمکتی شاہکار نسل، کے خواب بھی دیئے گئے۔
اس سب کے باوجود پاکستان وہیں کا وہیں یعنی بدستور تنزلی کی جانب گامزن۔۔۔ کیوں؟
شاید اس لیے کہ خدائی فرمان پہ کسی کی نظر نہ پڑی ، اس نے تو یہ سب کرنے کا نہیں کہا اس نے تو ایک سیدھا سا اصول بتا دیا ہے کہ 
اِنَّ اللہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ کہ اللہ تعالی تب تک کسی قوم کے حالات نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت میں تبدیلی نہ کریں۔

توکیا ہم نے اپنی حالت میں کچھ تبدیلی پیدا کی ہے جو ہم خداسے ایک بہتر پاکستان کی امید لگائے بیٹھے ہیں؟اور یہاں خدا سے میری مراد وہ ذات ہے جس کا اسم حقیقی اللہ ہے اور جو رب العالمین رحمن و رحیم اور مالک یوم الدین ہے۔، نہ کہ وہ فرضی خدا جنہیں ہم نے پوجنا شروع کیا ہوا ہے یا وہ جو خود خدا بنے بیٹھے ہیں۔

کیا کبھی ہم نے سوچنے کی کوشش بھی کی کہ اتنے عذاب کیوں ہم پہ؟ مطلب کہ مہنگائی کی ضربیں دن بدن تیز تر اور شدید تر ہوتی چلی جارہی ہیں۔ہماری سب سے بڑی خوشی بجلی کا آنا اور سب سے بڑا غم بجلی کا جانا بنتا جارہا ہے۔(ہاں اس سے ایک فائدہ یہ ضرور ہوا ہے کہ بجلی کے کرنٹ سے مرنے والوں کی شرح میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے)ہر روز رشوت کی شرح مانو تو جیسے فی کس کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔سی این جی کا اب نام ہی صرف لوگوں کو یاد ہے دستیابی تو بس اک خواب ہے۔اس پہ پھر قدرتی آفات بصورت زلازل سیلاب طوفان!

کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے، کوئی اور ملک ہوتا کوئی اور قوم ہوتی تو یہ سوال اتنا زیادہ ضروری شاید نہ ہوتا لیکن جن ملک وہ ہو جو اسلام کے نام پہ لیا گیا ہے اور قوم وہ ہو جس کو بہترین امت کہا گیا ہے تو پھر یہ سوال بہت بڑی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے کہ ان دونوں باتوں کے باوجود ہمارے ساتھ ایسا کیوں!
     

مانا کہ خدا رحمن ہے رحیم ہے، یہ بھی درست ہے کہ اس نے اپنی رحمت کو ہر ایک شے پہ وسیع قرار دیا ہے۔ لیکن جس کی امت ہونے کادعوی کرتے ہو اس نے یہ بھی تو فرمایا تھا ناں کہ مَنْ لَا یَرْحَمْ لَا یُرْحَمْ کہ جو رحم نہیں کرتا اس پہ بھی رحم نہیں کیا جائے گا۔

اس کے باوجود پاکستان میں مختلف مذہبی جماعتوں کے خلاف روز بروز بڑھتی مخالفت جن میں سے ہر ایک کئی باہمی اختلافات کے باوجود خود کو مسلمان کہتی ہے کا قتل عام، سرعام جلسے جلوسوں میں ان سے قطع تعلقی کی ہدایات ، مذہبی لیڈر جن سے دینی معاملات میں رہنمائی متوقع ہوتی ہے ان کا بے گناہوں کے خون کو جنت کی ضمانت ٹھہرانا اور پھر جب یہ سلوک بطور خاص اس جماعت کے ساتھ روا رکھا جائے جس کا مقصد ہی ساری دنیا میں دین حقیقی کا پرچار ہے اور تمام لوگوں کو اس ہدایت کے تابع لانا ہے جسکی طرف قادر مطلق نے ساری دنیا کی رہنمائی فرمائی ہے۔اور لطف اس پہ یہ فرمان کہ فَمَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّيْ نَفسُهُ وَمَالُهُ اِلَّا بِحَقِّہِ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ۔ کہ جو بھی لا الہ الا اللہ کہے مجھے سے اسکی جان اور عزت محفوظ ہے باقی اس کا حساب اللہ کے ذمہ۔

اب کہاں ہیں مسیحائی کا دم بھرنے والے! اور روشنی کی امنگیں جگا کے نئےپاکستان یا بہتر پاکستان کے خواب دکھانے والے جبکہ میرے لوگوں پہ محض اس وجہ سے جینا تنگ کیا جا رہا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں،اور یہ تو وہ اقرار ہے کہ جس کے کرنےوالے کی حرمت دوجہانوں کے سر دار نے مقرر فرمائی ہے۔یا اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس کے رسول مقبول و محبوب پہ ہماری جان قربان ہے یا پھر اس لیے کہ انہوں نے انہوں نے اسکی اطاعت کا دم بھرنے کے وعدوں کو سچ کرتے ہوئے اس کی پیشگوئیوں پر ایمان لاتے ہوئے اس زمانہ کے امام کو مانا ہے۔
کیا 
لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کا حکم صرف قرآنی تحریر کو مزین کرنے کے لیے ہے؟

کیا رحمۃ للعالمین کا فیض پاکستانی من پسند دستور اساسی کی قید میں ہے؟
یہ حمدیں یہ نعتیں یہ نوحے یہ ترانے یہ سیرتِ وجہِ تخلیقِ کائنات کے واقعات کو نہ سمیٹ پانے والے دفاتر صرف وقتی جوش ابھار کے ہمدردیاں لوٹنے اور واہ واہ کروانے کے لیے ہیں؟
مذہب کے نام پر خون کرنے والو جس کی غلامی کے نعرے لگاتے ہو اس نے تو غلاموں کے حقوق بھی بنائے اور اس نے تو جانوروں اور درختوں تک کی حفاظت فرمائی اور تم انسانوں کو مارنے پہ تلے ہوئے ہو۔

                   کیا ہیں یہ لوگ اپنے شجر آپ کاٹ کر

                   دیتے ہیں پھر دہائی کہ سایہ کرے کوئی

جب ارباب حکومت بھی اس کے متعلق کوئی قدم نہ اٹھائیں بلکہ کبھی سرسری مذمتی بیان دے کے آنکھیں بند کرلیں یا اکثر اتنی زحمت بھی نہ کریں۔ اور وہ جنہیں حکم ہے کہ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَلَّا تَعْدِلُوْا کہ اگر کوئی قوم تمہاری دشمن ہے تو اس کی دشمنی بھی تمہیں ناانصافی پر مجبور نہ کرے، خود شدت پسندوں کے ساتھ مل کے تمام خدائی احکام کو بالائے طاق رکھ دیں تو پھر خدا کا غضب جوش نہ مارے تو اور کیا کرے؟ کیوں کہ اس کا قانون تو ہر روز بدلتے شہریت اور حکومتی اصولوں اور پالسیوں سے بالا ہے اس نے رب العالمین ہونے کا حق ادا کرنا ہی کرنا ہے اور ظلم کرنے والوں کو سزا دینی ہی دینی ہے۔

              میں روتا ہوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ہوں
ان لوگوں پر جن لوگوں نے میرے لوگوں کو آزار دیا

افسوس تو مجھے خود کو مسلمان اور پاکستانی کہہ کہ اقوام عالم کے سامنے مفلسی لاچاری تنگدستی ناداری اور مظلومیت کی تصویر بنے والے بھائیوں پر ہے کہ دوسروں کے سامنے اپنے ظلموں کی داستانیں سناتے نہیں تھکتے اور خود اپنے ہاتھ سے کوئی موقعہ ظلم کرنے کا جانے نہیں دیتے۔ اور جو ذرا شعور رکھتے ہیں وہ احساس سے عاری ہیں کوئی مرتا ہے تو مرے انہیں کیا۔

                  کربلا کیا ہے کیا خبر اس کو
جس کے گھر میں یہ واقعہ نہ ہوا

لیکن میں پھر بھی خوش ہوں مطمئن ہوں ہاں  ’’مطمئن‘‘ اور یہ وہ کیفیت ہے جو میرے ملک کے اکثر لوگوں کو نصیب نہیں لیکن مجھے آرام حاصل ہے۔۔۔

          یہ قصص عجیب و غریب ہیں
یہ محبتوں کے نصیب ہیں

اور یہ نصیبوں کی بات ہی ہے ورنہ دنیا میں نہ پڑھے لکھے لوگوں کی کمی ہے اور ناں ہی ماتھے پہ سجدوں کے نشان سجائے ہوؤں کی۔ لیکن یہ خدا کی مہربانی ہے وہ جس پہ کرم کردے

             اس کے نام پہ ماریں کھانا اب اعزاز ہمارا
اور کسی کی یہ عزت اوقات نہیں دیکھی


اہل زمیں نےکون سا ہم پر ظلم نہیں ڈھایا
کون سی نصرت ہم نے اس کے ہات نہیں دیکھی 


ایک شجر ہےجس کی شاخیں پھیلتی جاتی ہیں
کسی شجر میں ہم نے ایسی بات نہیں دیکھی


ہم تو جس حال میں بھی ہمارا مولا ہمیں رکھے خوش ہیں کیوں کہ اس نے کبھی ہمیں چھوڑا نہیں اور مخالفتوں سے کئی گنا زیادہ اس کے فضلوں کے نظارے ہم دیکھ رہے ہیں۔
لیکن یہ انقلابی نعرے لگانے والو، یہ ترقیاتی اشارے کرنے والو، کیا کبھی سوچا ہے کہ تمہارا کیا بنے گا؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: