مسلمان تو ہم ہیں لیکن مسلمانی ان میں ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم مغربی معاشرہ سے اتنے مرعوب کیوں ہیں؟ اتنے مرعوب کہ ان کے بارہ میں سوچتے ہوئے ان کے بارہ میں بات کرتے ہوئے یا اگر کبھی کہیں سرسری طور پر بھی ان کا ذکر آجائے  تو ایک احساس کمتری کی ایک احساس محرومی کی کیفیت ہمارے اندر خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ اپنے بارہ میں منفی سوچ اور منفی رویہ جبکہ ان کے لیے احساس برتری خود بخود اختیار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

اور یہ تاثر اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ عوام الناس تو درکنار مذہبی اور عوامی جلسے جلوسوں میں ان کے خلاف نعرے بلند کرنے والے ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی تحریکیں چلانے والے  بصد شوق اپنا گھربار بیچ کے اپنی جمع پونجی داؤ پہ لگا کے قرض لے کے اور بسا اوقات اپنی جان خطرہ میں ڈال کے کسی بھی مغربی ملک جانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آزاد شہری وہاں جا کے سالہا سال شہریت کے لیے ترستے ہیں۔

            آخر ایسا کیوں ہے؟

جبکہ ہم تو اس نبی کے ماننے ولے ہیں جسے خدا نے کہا تھا لَولَا کَ لَمَا خَلَقتُ الاَفلَاکَ۔ کہ اے محمد ﷺ اگر تیری پیدائش مقصود نہ ہوتی تو میں یہ جہاں ہی معرض وجود میں نہ لاتا۔

            ہم تو اس کی غلامی کا دم بھرتے ہیں جو سرکار دو جہان سردار اولین و آخرین شیفیع الوری رحمۃ للعلمین افضل الرسل خاتم النبیین ہے۔

 تو پھر ان کی غلامی کے لیے اتنی بیتابی کیوں؟ شاید اس لیے کہ۔۔۔۔

            صفائی نصف ایمان کی تعلیم تو ہمیں دی گئی ہے لیکن گلیاں محلے اور شہر ان کے صاف ہوتے ہیں۔

تکلیف دہ چیزیں راستوں سے ہٹانے کے تحریض تو ہم کو ہے لیکن راستے ان کے ان چیزوں سے پاک ہوتے ہیں۔

عورتوں کے حقوق تو اسلام نے قائم کیے ہیں لیکن نسوانی حقوق کے قوانین انہوں نے بنائے ہیں اور ان پر عمل پیرا وہ ہورہے ہیں۔

انسانیت کا شرف حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ قائم ہوا لیکن تحفظ انسانیت  کی فعال تنظیمیں انہوں نے بنائی ہوئی ہیں۔

حکم تو ہمیں فخرالانبیاء نے پیدائش سے وفات تک تعلیم حاصل کرنے کا دیا ہے لیکن خواندگی کی شرح ان کی زیادہ ہے۔

زمینی راز  دریافت کرنے کی ہدایت قرآن نے ہمیں دی ہے لیکن بہترین ماہرین آثار قدیمہ انکے ہیں۔

ستاروں کی حقیقت قرآن کریم نے بیان کی ہے لیکن علم فلکیات میں ثانی ان کا اس وقت کوئی نہیں ہے۔

ہمدردیء خلق کی تعلیم تو ہمیں ہے لیکن کسی بھی زلزلہ سیلاب یا طوفان کی تباہ کاریوں پر مالی امدادیں وہ کرتے ہیں۔

امن کے  پیامبر تو ہم ہیں لیکن امن و امان کی صورت حال بہتر وہاں ہے۔

ان سب باتوں کے بعد میں نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ ہماری قوم میں وہاں پہنچنے کی گو وہاں جا کے غلامی ہی کرنی پڑے  لو اس وجہ سے لگی ہوئی ہے کہ شاید۔۔۔۔۔

مسلمان تو ہم ہیں لیکن مسلمانی ان میں ہے

Advertisements

2 thoughts on “مسلمان تو ہم ہیں لیکن مسلمانی ان میں ہے

  1. Sohaib Ahmed 10 PMpWed, 10 Apr 2013 21:07:41 +000007Wednesday 2013 at 9:07 pm Reply

    very well written, you rightly pointed out the issue where these western nations have left us behind and why. we as a muslim must also follow what we believe.

    • Luqman Saqib 10 PMpWed, 10 Apr 2013 22:21:26 +000021Wednesday 2013 at 10:21 pm Reply

      thank u sir, bas yehi soch agay ponhchana maqsad tha, if we had been acting upon Islamic Teachings Circumstances wud surely have been different, May Allah Enable us to understand this. ameen

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: