Monthly Archives: April 2013

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہےہیں

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہےہیں

زبانیں تھک گئیں نیا پاکستان نیا پاکستان کے نعرے لگاتے لگاتے اور گلے بھی خشک ہوگئے۔ ایک دم پانی پینے کی فرصت نہیں کہ مبادا اس غیوبت سے نیا پاکستان تعمیر ہونے سے رہ نہ جائے۔
موجودہ اور پرانی اور نئی پاکستانی سیاسی پارٹیاں تھک گئیں ملک و قوم کی خدمت کرنے کے جذبہ کے تحت ایک دوسرے پر الزامات لگا لگا کر۔
سونامی بھی آئے قلعے بھی بنے اور ‘‘اپنے زعم میں ’’ مثالی ترقیاتی منصوبے بھی تمام ہوئے۔
اور بقول بعض روٹی کپڑا مکان بھی مہیا کیا گیا۔
تعلیم یافتہ نوجوان نسل، روزگار کی فکروں سے آزاد نسل، دنیا کے افق پہ چمکتی شاہکار نسل، کے خواب بھی دیئے گئے۔
اس سب کے باوجود پاکستان وہیں کا وہیں یعنی بدستور تنزلی کی جانب گامزن۔۔۔ کیوں؟
شاید اس لیے کہ خدائی فرمان پہ کسی کی نظر نہ پڑی ، اس نے تو یہ سب کرنے کا نہیں کہا اس نے تو ایک سیدھا سا اصول بتا دیا ہے کہ 
اِنَّ اللہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ کہ اللہ تعالی تب تک کسی قوم کے حالات نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت میں تبدیلی نہ کریں۔

توکیا ہم نے اپنی حالت میں کچھ تبدیلی پیدا کی ہے جو ہم خداسے ایک بہتر پاکستان کی امید لگائے بیٹھے ہیں؟اور یہاں خدا سے میری مراد وہ ذات ہے جس کا اسم حقیقی اللہ ہے اور جو رب العالمین رحمن و رحیم اور مالک یوم الدین ہے۔، نہ کہ وہ فرضی خدا جنہیں ہم نے پوجنا شروع کیا ہوا ہے یا وہ جو خود خدا بنے بیٹھے ہیں۔

کیا کبھی ہم نے سوچنے کی کوشش بھی کی کہ اتنے عذاب کیوں ہم پہ؟ مطلب کہ مہنگائی کی ضربیں دن بدن تیز تر اور شدید تر ہوتی چلی جارہی ہیں۔ہماری سب سے بڑی خوشی بجلی کا آنا اور سب سے بڑا غم بجلی کا جانا بنتا جارہا ہے۔(ہاں اس سے ایک فائدہ یہ ضرور ہوا ہے کہ بجلی کے کرنٹ سے مرنے والوں کی شرح میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے)ہر روز رشوت کی شرح مانو تو جیسے فی کس کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔سی این جی کا اب نام ہی صرف لوگوں کو یاد ہے دستیابی تو بس اک خواب ہے۔اس پہ پھر قدرتی آفات بصورت زلازل سیلاب طوفان!

کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے، کوئی اور ملک ہوتا کوئی اور قوم ہوتی تو یہ سوال اتنا زیادہ ضروری شاید نہ ہوتا لیکن جن ملک وہ ہو جو اسلام کے نام پہ لیا گیا ہے اور قوم وہ ہو جس کو بہترین امت کہا گیا ہے تو پھر یہ سوال بہت بڑی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے کہ ان دونوں باتوں کے باوجود ہمارے ساتھ ایسا کیوں!
     

مانا کہ خدا رحمن ہے رحیم ہے، یہ بھی درست ہے کہ اس نے اپنی رحمت کو ہر ایک شے پہ وسیع قرار دیا ہے۔ لیکن جس کی امت ہونے کادعوی کرتے ہو اس نے یہ بھی تو فرمایا تھا ناں کہ مَنْ لَا یَرْحَمْ لَا یُرْحَمْ کہ جو رحم نہیں کرتا اس پہ بھی رحم نہیں کیا جائے گا۔

اس کے باوجود پاکستان میں مختلف مذہبی جماعتوں کے خلاف روز بروز بڑھتی مخالفت جن میں سے ہر ایک کئی باہمی اختلافات کے باوجود خود کو مسلمان کہتی ہے کا قتل عام، سرعام جلسے جلوسوں میں ان سے قطع تعلقی کی ہدایات ، مذہبی لیڈر جن سے دینی معاملات میں رہنمائی متوقع ہوتی ہے ان کا بے گناہوں کے خون کو جنت کی ضمانت ٹھہرانا اور پھر جب یہ سلوک بطور خاص اس جماعت کے ساتھ روا رکھا جائے جس کا مقصد ہی ساری دنیا میں دین حقیقی کا پرچار ہے اور تمام لوگوں کو اس ہدایت کے تابع لانا ہے جسکی طرف قادر مطلق نے ساری دنیا کی رہنمائی فرمائی ہے۔اور لطف اس پہ یہ فرمان کہ فَمَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّيْ نَفسُهُ وَمَالُهُ اِلَّا بِحَقِّہِ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ۔ کہ جو بھی لا الہ الا اللہ کہے مجھے سے اسکی جان اور عزت محفوظ ہے باقی اس کا حساب اللہ کے ذمہ۔

اب کہاں ہیں مسیحائی کا دم بھرنے والے! اور روشنی کی امنگیں جگا کے نئےپاکستان یا بہتر پاکستان کے خواب دکھانے والے جبکہ میرے لوگوں پہ محض اس وجہ سے جینا تنگ کیا جا رہا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں،اور یہ تو وہ اقرار ہے کہ جس کے کرنےوالے کی حرمت دوجہانوں کے سر دار نے مقرر فرمائی ہے۔یا اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس کے رسول مقبول و محبوب پہ ہماری جان قربان ہے یا پھر اس لیے کہ انہوں نے انہوں نے اسکی اطاعت کا دم بھرنے کے وعدوں کو سچ کرتے ہوئے اس کی پیشگوئیوں پر ایمان لاتے ہوئے اس زمانہ کے امام کو مانا ہے۔
کیا 
لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کا حکم صرف قرآنی تحریر کو مزین کرنے کے لیے ہے؟

کیا رحمۃ للعالمین کا فیض پاکستانی من پسند دستور اساسی کی قید میں ہے؟
یہ حمدیں یہ نعتیں یہ نوحے یہ ترانے یہ سیرتِ وجہِ تخلیقِ کائنات کے واقعات کو نہ سمیٹ پانے والے دفاتر صرف وقتی جوش ابھار کے ہمدردیاں لوٹنے اور واہ واہ کروانے کے لیے ہیں؟
مذہب کے نام پر خون کرنے والو جس کی غلامی کے نعرے لگاتے ہو اس نے تو غلاموں کے حقوق بھی بنائے اور اس نے تو جانوروں اور درختوں تک کی حفاظت فرمائی اور تم انسانوں کو مارنے پہ تلے ہوئے ہو۔

                   کیا ہیں یہ لوگ اپنے شجر آپ کاٹ کر

                   دیتے ہیں پھر دہائی کہ سایہ کرے کوئی

جب ارباب حکومت بھی اس کے متعلق کوئی قدم نہ اٹھائیں بلکہ کبھی سرسری مذمتی بیان دے کے آنکھیں بند کرلیں یا اکثر اتنی زحمت بھی نہ کریں۔ اور وہ جنہیں حکم ہے کہ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَلَّا تَعْدِلُوْا کہ اگر کوئی قوم تمہاری دشمن ہے تو اس کی دشمنی بھی تمہیں ناانصافی پر مجبور نہ کرے، خود شدت پسندوں کے ساتھ مل کے تمام خدائی احکام کو بالائے طاق رکھ دیں تو پھر خدا کا غضب جوش نہ مارے تو اور کیا کرے؟ کیوں کہ اس کا قانون تو ہر روز بدلتے شہریت اور حکومتی اصولوں اور پالسیوں سے بالا ہے اس نے رب العالمین ہونے کا حق ادا کرنا ہی کرنا ہے اور ظلم کرنے والوں کو سزا دینی ہی دینی ہے۔

              میں روتا ہوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ہوں
ان لوگوں پر جن لوگوں نے میرے لوگوں کو آزار دیا

افسوس تو مجھے خود کو مسلمان اور پاکستانی کہہ کہ اقوام عالم کے سامنے مفلسی لاچاری تنگدستی ناداری اور مظلومیت کی تصویر بنے والے بھائیوں پر ہے کہ دوسروں کے سامنے اپنے ظلموں کی داستانیں سناتے نہیں تھکتے اور خود اپنے ہاتھ سے کوئی موقعہ ظلم کرنے کا جانے نہیں دیتے۔ اور جو ذرا شعور رکھتے ہیں وہ احساس سے عاری ہیں کوئی مرتا ہے تو مرے انہیں کیا۔

                  کربلا کیا ہے کیا خبر اس کو
جس کے گھر میں یہ واقعہ نہ ہوا

لیکن میں پھر بھی خوش ہوں مطمئن ہوں ہاں  ’’مطمئن‘‘ اور یہ وہ کیفیت ہے جو میرے ملک کے اکثر لوگوں کو نصیب نہیں لیکن مجھے آرام حاصل ہے۔۔۔

          یہ قصص عجیب و غریب ہیں
یہ محبتوں کے نصیب ہیں

اور یہ نصیبوں کی بات ہی ہے ورنہ دنیا میں نہ پڑھے لکھے لوگوں کی کمی ہے اور ناں ہی ماتھے پہ سجدوں کے نشان سجائے ہوؤں کی۔ لیکن یہ خدا کی مہربانی ہے وہ جس پہ کرم کردے

             اس کے نام پہ ماریں کھانا اب اعزاز ہمارا
اور کسی کی یہ عزت اوقات نہیں دیکھی


اہل زمیں نےکون سا ہم پر ظلم نہیں ڈھایا
کون سی نصرت ہم نے اس کے ہات نہیں دیکھی 


ایک شجر ہےجس کی شاخیں پھیلتی جاتی ہیں
کسی شجر میں ہم نے ایسی بات نہیں دیکھی


ہم تو جس حال میں بھی ہمارا مولا ہمیں رکھے خوش ہیں کیوں کہ اس نے کبھی ہمیں چھوڑا نہیں اور مخالفتوں سے کئی گنا زیادہ اس کے فضلوں کے نظارے ہم دیکھ رہے ہیں۔
لیکن یہ انقلابی نعرے لگانے والو، یہ ترقیاتی اشارے کرنے والو، کیا کبھی سوچا ہے کہ تمہارا کیا بنے گا؟

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا غیرمسلموں سے حسن سلوک

 

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا غیرمسلموں سے حسن سلوک

انڈیکس:

باب اول:وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ

حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی گواہی

ہر لحاظ سے بے مثل وجود

باب دوم: غیر مسلموں سے حسن سلوک کی جھلکیاں

قرآن کی گواہی

السلام علیکم کہنے کی ہدایت

السام علیکم کے جواب میں بھی نرمی کی تلقین

عیادت مریض

کافر کی حد درجہ مہمان نوازی

جنگ میں دشمنوںسے حسن سلوک۔عین حالت جنگ میں پانی سے نہ روکنا

جنگ میں دشمنوں سے حسن سلوک۔ وَلَا تَمْثُلُوْا

شام کے عیسائیوں کا مسلمانوں کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر ان کے غلبہ کی دعا کرنا

یہود خیبر سے محاصل کی وصولی کا بے نظیر طریق

غیر مسلوں سے حسن سلوک کا بے مثل پہلوان کے لیے دعائیں

حضرت ابو ہریرہ ؓ کی غیر مسلم والدہ کے لیے دعا اور ان کا ایمان لے آنا

قبیلہ دوس کے اسلام سے انکار پر بھی ان کے لیے ہدایت کی دعا

قبیلہ ثقیف کے لیے ہدایت کی دعا

غیر مسلموں کے حق میں بارش کی دعا

پتھر برسانے والوں کے حق میں دعا

زہر دینے والی عورت کو معاف فرمادیا

غیر مسلموں کے جنازہ کا احترام

فتح مکہ کے موقع پر عظیم الشان عفو کا نمونہ

غیر مسلموں کو مسجد میں اپنے طریق پر عبادت کی اجازت دینا

باب سوم: مستشرقین کا خراج تحسین

ولیم میور(Willian Muir) کا خراج تحسین

لیمرٹین (Lamartine)کا خراج عقیدت

 

 

باب اول:وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ

اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر رحمت کی صورت میں تمام جہانوں کے لیے

حضرت محمد مصطفی ﷺ اللہ تعالی کے آخری نبی ہیں۔ آپ پر اللہ نے شریعت کامل کی اور آپ کو خاتم النبیین کا خطاب دے کر تمام جہانوں کی طرف مبعوث کیا۔جب اللہ تعالی نے آپ کو تمام نبیوں سے افضل قرار دیا تو آپ کے اخلاق عادات شمائل بھی تمام نبیوں سے افضل بنائے اور ایسی عمدگی کے ساتھ پھر حضورﷺ سے ان کا ظہور ہوا کہ اس کی نظیر نہ آج تک نظر آئی ہے اور نہ آئندہ آسکتی ہے۔

خود قرآن نے آپ کے اخلاق عالیہ پر مہر تصدیق ثبت فرمائی ہے اور گواہی دی ہے کہ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (سورۃ القلم:5)کہ بے شک تو عظیم الشان اخلاق پر قائم ہے۔

حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی گواہی:۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا ام المؤمنین جنہیں سب سے زیادہ آپ کی صحبت مبارک میں رہنے کی سعادت نصیب ہوئی جب آپ سے صحابہ نے حضور ﷺ کے اخلاق کی جھلک دکھلانے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایاکیا تم قرآن نہیں پڑھتے کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْاٰنَ کہ آپ کے اخلاق تو قرآنی تعلیمات کی عملی تفسیر تھے۔

(مسند احمد بن حنبل مسند عائشۃحدیث 25108جلد 8صفحہ144 )

گویا اگر قرآن کو سمجھنا ہے اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہے تو نمونہ جو آنحضور نے پیش کردیا ہے وہ بہترین ہے۔ اگر کوئی سمجھناچاہتا ہے قرآن کو تو حضور ﷺ کی زندگی ہی اس کی بہترین رہنما ہے۔

ہر لحاظ سے بے مثل وجود:۔

ذاتی زندگی سے لے کے گھریلو ازدواجی زندگی اور پھر معاشرتی زندگی اور پھربحیثیت نبی اللہ اور پھر بحیثیت داعی الی اللہ اور پھر بحیثیت پیامبر امن اور پھر بحیثیت ایک فوجی جرنیل اور پھر بحیثیت سربراہ مملکت کیا آپ کی امانت و دیانت کیا آپ کا حسن سلوک بچوں بڑوں پڑوسیوں رشتہ داروں سے عزیروں دشمنوں غلاموں لاچاروں سے پھر کیا آپ کی شجاعت بہادری جوانمردی اور پھر وہیں آپ کی نرمی مسکراہٹ اور چشم پوشی۔

سبحان اللہ!

غرض جس پہلو سے بھی دیکھیں کسی خلق میں آنحضورﷺ کا کوئی ثانی کہیں ہمیں نظر نہیں آتا۔ کسی ایک خلق میں بھی۔

باب دوم: غیر مسلموں سے حسن سلوک کی جھلکیاں

حضور ﷺ کے یہ اخلاق صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہ تھے بلکہ خدا تعالی نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا تھا جیسا کہ قرآن میں فرمایا وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔(سورۃ الانبیاء:108) کہ اے نبی ﷺ ہم نے تجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔ اوراس حسن کے پیکر نے اپنے عملی نمونہ سے خود کو رحمۃ للعالمین ثابت بھی کیا۔ آئیں میں آپ کے سامنے اس رحمۃ للعالمین کے غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کے نمونے پیش کروں۔

قرآن کی گواہی:۔

غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کا اس سے بہترنمونہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہیں تباہی سے بچا لیا جائے اور یہی فکر تھی جو آنحضور ﷺ کو شب و روز رہتی تھی۔ آپ کی اس حالت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:۔

فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ  یُؤْمِنُوْا  بِھٰذَا  الْحَدِیْثِ اَسَفًا (سورۃ الکہف:7)

پس کیا تُو شدتِ غم کے باعث اُن کے پیچھے اپنی جان کو ہلاک کردے گا اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں

اسی طرح ایک دوسری جگہ فرمایا:۔

لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا  مُؤْمِنِیْنَ  (سورۃ الشعراء:4)

کہ کیا توُ اپنی جان کو اس لئے ہلاک کر دے گا کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔

السلام علیکم کہنے کی ہدایت:۔

عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ االلہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ النَّبِیَّﷺ: اَیُّ الْاِسْلَامِ خَیْرٌ؟ قَالَ:  تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَ تَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَ مَنْ لَمْ تَعْرِفْ ۔

(صحیح البخاری کتاب الایمان باب اطعام الطعام من الاسلام حدیث نمبر 12)

حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا تم کھانا کھلایا کرو اور ہر کسی کو سلام کیا کرو خواہ تم اسے جانتےہو یا نہیں جانتے۔

السَّامُ عَلَیْکُمْ کے جواب میں بھی نرمی کی تلقین:۔

یہود آنحضور ﷺ کی مخالفت میں بہت بڑھے ہوئے تھے اور اپنے شاطر دماغوں سے کوئی نہ کوئی طریقہ آپ یا مسلمانوں کو تکلیف دینے کا ڈھونڈتے رہتے تھے۔ لیکن آنحضورﷺ نے ہمیشہ ان کو نرمی سے جواب دیا اور اپنے اصحاب کو بھی نرمی کی تلقین فرمائی۔چنانچہ حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں :۔

ایک دفعہ ایک یہودی گروہ آنحضور کی خدمت میں آیا اور انہوں نے شرارتاً اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کی بجائے اَلسَّامُ عَلَیْکِمْ(یعنی تم پر ہلاکت ہو)کہامجھے سمجھ لگ گئی میں نے انہیں کہا کہ ہلاکت تم پر ہو اور انہیں ملامت کی لیکن رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ عائشہ ٹھہرو ‘‘اِنَ اللہَ یُحِبُّ الرِّفْقَ فِی الْاَمْرِ کُلِّہٖ’’ کہ اللہ تعالی ہر معاملہ میں نرمی پسند کرتا ہے۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول کیا آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ نے فرمایا میں نے انہیں جواب میں کہہ دیا تھا کہ ‘‘وَعَلَیْکُمْ’’ یعنی تم پر بھی۔

(صحیح البخاری کتاب الادب باب الرفق فی الامر کلہ حدیث6024)

عیادت مریض:۔

آپ کو سب کے درد کا احساس تھا اس لیے اگر کوئی غیر مسلم بھی بیمار ہوتا تو آپ اس کی تیماداری کے لیے تشریف لے جاتے۔حضرت انس ؓ بیان فرماتے ہیں:۔

‘‘أَنَّ غُلَامًا لِیَھُوْدَ،کَانَ یَخْدُمُ النَّبِیَّ ﷺ،فَمَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّﷺیَعُوْدُہُ۔’’

(صحیح البخاری کتاب المرض باب عیادۃ المشرک حدیث نمبر 5657)

کہ رسول کریم ﷺ کا ایک خادم یہودی تھا جو بیمار ہو گیا۔ رسول کریم ﷺ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔

کافر کی حد درجہ مہمان نوازی:۔

ایک حدیث میں خاص طور پیش کرنا چاہتاہوں جس سے حسن سلوک ایک جاذب پہلو ‘‘مہمان نوازی’’ سامنے آتا ہے۔

عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ ﷺضَافَہُ ضَیْفٌ کَافِرٌ،فَأَمَرَلَہُ رَسُوْلُ اللہِ ﷺبِشَاۃٍفَحُلِبَتْ فَشَرِبَ،ثُمَّ اُخْرَی فَشَرِبَہُ،ثُمَّ أُخْرَی فَشَرِبَہُ حَتَّی شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِیَاہٍ،ثُمَّ أَصْبَحَ مِنَ الْغَدِ فَأَسْلَمَ،فَأَمَرَ لَہُ رَسُوْلُ اللہِ ﷺبِشَاۃٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَھَا،ثُمَّ أَمَرَلہ بِاُخْری فَلَمْ یَسْتَتِمَّھَا۔

(سنن الترمذی کتاب الأطعمۃ بابما جاء أن المؤمن یأکل فی معی واحد…حدیث نمبر1819)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک کافر کی مہمان نوازی کی۔نبی کریم ﷺ نے اس کے لئے ایک بکری منگوائی اور اس کا دودھ دوہا گیا۔ وہ اس کا دودھ پی گیا۔ پھر ایک دوسری منگوائی گئی اور اس کا دودھ دوہا گیا تو اس نے اس کا دودھ بھی پی لیا۔ پھر ایک تیسری بکری منگوائی گئی تو وہ اس کا دودھ بھی پی گیا۔ حتیٰ کہ وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔ اگلے دن صبح کے وقت اس نے اسلام قبول کرلیا۔ پھر رسول کریم ﷺ نے بکری منگوائی اور اس کا دودھ دوہا گیا۔ پس اس نے دودھ پی لیا پھر نبی کریم ﷺ نے اس کے لئے ایک اور بکری منگوائی مگر وہ اس کا دودھ مکمل طور پر نہ پی سکا۔

سبحان اللہ !ایسے اخلاق ذات محمدی کے علاوہ اور کہاں نظر آسکتے ہیں! ایک کافر ہے آپ کے محبوب خدا کا انکار کرنے والا اسکی مہمان نوازی فرما رہے ہیں اور اس درجہ بڑھ گئے ہیں اس خلق میں کہ وہ دودھ پیتا جا رہا ہے اور آپؐ اس کے لیے دودھ منگواتے جارہے ہیں۔

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم اللھم صل علی محمد و ال محمد

جنگ میں دشمنوں سے حسن سلوک:۔عین حالت جنگ میں پانی سے نہ روکنا:۔

حضور ﷺ سے غیر مسلموں سے اعلی حسن سلوک کا ظہور صرف عام حالات میں ہی نہیں تھا بلکہ جنگ کی حالت میں جس میں آج بھی قومیں ہر طرح کی فریب دہی جائز سمجھتی ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے دشمن کو پسپا کرنے کا نہیں جانے دیتیں اس جنگی حالت میں بھی حضور ﷺ نے حسن سلوک کی ایسی علیٰ مثالیں قائم کیں کہ عقل جنہیں دیکھ کے دنگ رہ جاتی ہےچنانچہ جنگ بدر کے موقع پر جب مسلمانوں نے پانی کے چشمہ پر حوض بنا کے وہاں پڑاؤ کر لیا تو باوجود حالت جنگ کے جب دشمن پانی لینے آیا تو آپؐ نے فرمایا انہیں پانی لے لینے دو۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام صفحہ424ذکر رؤیا عاتکۃ بنت عبد المطلب۔اسلام ابن حزام)

جنگ میں دشمنوں سے حسن سلوک:۔ وَلَا تَمْثُلُوْا:۔

عربوں میں مثلہ کی رسم عام تھی۔ یعنی جنگ میں دشمن کی لاشوں کے ناک کان وغیرہ کاٹ کر ان کامنہ بگاڑ دینا۔ لیکن آپ ؐ نے بڑی تاکیدی ہدایت اپنے پیروؤں کو دی کہ وَلَا تَمْثُلُوْا کہ تم مثلہ نہ کرو۔اور اس طرح غیر مسلموں کے مُردوں کی بھی عزت قائم فرمائی۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الجھاد باب وصیۃ الامام حدیث 2857)

شام کے عیسائیوں کا مسلمانوں کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر ان کے غلبہ کی دعا کرنا:۔

جب شام فتح ہوا تو مسلمانوں نے شام کے لوگوں سے جو عیسائی تھے ٹیکس وصول کیالیکن اس کے تھوڑے عرصے بعد رومی سلطنت کی طرف سے پھر جنگ کا اندیشہ پیدا ہو گیا جس پر شام کے اسلامی امیر حضرت ابو عبیدہ ؓ نے تمام وصول شدہ ٹیکس عیسائی آبادی کو واپس کر دیا اور کہا کہ جنگ کی وجہ سے جب ہم تمہارے حقوق ادا نہیں کر سکتے تو ہمارے لئے جائز نہیں کہ یہ ٹیکس اپنے پا س رکھیں۔ عیسائیوں نے یہ دیکھ کر بے اختیار مسلمانوں کو دعا دی اور کہا خدا کرے تم رومیوں پر فتح پاؤ اور پھر اس ملک کے حاکم بنو۔

( کتاب الخراج ابویوسف صفحہ 80تا82، فتوح البلدان بلاذری صفحہ 146)

یہود خیبر سے محاصل کی وصولی کا بے نظیر طریق:۔

جب حضورﷺ نے خیبر فتح کیاتویہود خیبر کی درخواست پر انہیں کاشتکاری کی اجازت دی۔ جب فصل کٹنے کا وقت آیا تو حضورﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ  کو وصولی کے لیے بھیجا تو آپ نے اس وقت کی فصل جو کہ کھجوریں تھیں دو حصوں میں برابر تقسیم فرمائیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں ہمارے حصہ سے زیادہ تقسیم فرمارہے  ہیں کیوں کہ ان کے اپنے اصول کے مطابق ان کا حصہ آدھا نہیں بنتا تھا لیکن حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے فرمایا تمہیں ضرور آدھی ہی ملیں گی کیوں کہ تم سے معاہدہ اسی طرح ہوا تھا۔ اس پر وہ بے اختیار بول اٹھے کہ ‘‘ھٰذَا الْحَقُّ وَبِہٖ تَقُوْمُ السَّمَاءُ وَالْارْضُ’’ کہ یہی حق ہے اور اسی سے آسمان و زمین قائم ہیں۔

(سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب فی المساقاۃ حدیث 3410)

غیر مسلوں سے حسن سلوک کا بے مثل پہلوان کے لیے دعائیں:۔

حضور ﷺ کا غیر مسلموں کے لیے دعائیں کرنا ثابت کرتا ہے کہ آپﷺ کو ان سے سچی ہمدردی تھی اور آپ ﷺ کی حد درجہ خواہش تھی کہ خدا کا پیغام وہ سنیں اور اس کے احکام وہ مانیں۔اس لیے مسلسل ان کے لیے دعائیں آپ کیا کرتے تھے اور بخشش مانگا کرتے تھے۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ کی غیر مسلم والدہ کے لیے دعا اور ان کا ایمان لے آنا:۔

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی مشرک والدہ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا تھا۔ ایک دن میں نے انہیں تبلیغ کی تو انہوں نے رسول اللہ  ﷺ کے بارہ میں ناپسندیدہ باتیں کیں۔ میں رسول کریم ﷺ کے پاس روتا ہوا حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! میں اپنی والدہ کو اسلام کی دعوت دیتا تھا تو وہ انکار کرتی تھیں۔ آج میں نے دعوت دی تو انہوں نے آپ کے متعلق نازیبا باتیں کیں جنہیں میں ناپسند کرتا ہوں۔ آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ میری والدہ کو ہدایت دے۔ رسول کریم  ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ! ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت دے۔ میں رسول کریم ﷺ کی دعا سے خوش خوش واپس ہوا۔ جب میں گھر کے دروازہ کے پاس آیا تو وہ بند تھا۔ میری والدہ نے میرے قدموں کی آواز سنی تو کہا اے ابو ہریرہ ادھر ہی ٹھہر جاؤ۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے پانی کے گرنے کی آواز سنی۔ ابو ہریرہکہتے ہیں کہ انہوں نے غسل کیا اور کپڑے زیب تن کیے۔ دوپٹہ اوڑھا اور دروازہ کھول دیا۔ پھر انہوں نے کہا اے ابو ہریرہ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔

(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ حدیث نمبر6396)

قبیلہ دوس کے اسلام سے انکار پر بھی ان کے لیے ہدایت کی دعا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ طفیل بن عمرو الدوسی اور ان کے ساتھی نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے ا ور عرض کی ۔یا رسول اللہ!دوس قبیلے نے ا سلام کی دعوت کا انکا رکر دیا ہے۔اس لئے آپ ان کے خلاف بد دعا کریں ۔کسی نے کہا کہ اب تو دوس قبیلہ ہلاک ہو گیا۔نبی کریم ﷺ نے اس طرح دعا کی کہ اے اللہ!تُو دوس قبیلے کو ہدایت دے اور ان کو لے آ۔

(صحیح البخاری کتاب الجھاد والسیر باب الدعا للمشرکین بالھزیمۃ و زلزلۃ حدیث نمبر 2937)

قبیلہ ثقیف کے لیے ہدایت کی دعا:۔

حضرت جابرؓ  بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمیں ثقیب کے تیروں نے چھلنی کر چھوڑا ہے۔ اس لئے آپ ان کے خلاف بد دعا کریں۔ آپ ﷺ نے اس طرح دعا فرمائی:۔

‘‘اَللّٰھُمَّ اھْدِ ثَقِیْفًا ’’کہ اے اللہ تُو ثقیف قبیلہ کو ہدایت دے۔

(سنن ترمذی کتاب المناقب باب مناقب فی ثقیف و بنی حنیف حدیث نمبر 3942)

غیر مسلموں کے حق میں بارش کی دعا:۔

حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ جب قریش نے اسلام کی مخالفت کی اور اس کو قبول کرنے میں تاخیر سے کام لیا تو اس وقت آنحضورﷺ نے ان کے خلاف بددعا کی۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں ان کو قحط کا سامنا کرنا پڑا۔ اور وہ بھوک کی وجہ سے مرنے لگ گئے اور مردار اور ہڈیاں کھانے تک نوبت آگئی۔ اس پر ابوسفیان آنحضور ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور کہا اے محمد ﷺ! آپ صلہ رحمی کرنے کا حکم لے کرآئے ہیں۔ آپ کی قوم ہلاک ہورہی ہے۔ ان کے واسطے اپنے مولا سے دعا کریں۔ اس پر آنحضور ﷺ نے دعا کی اور مسلسل سات دنوں تک ابررحمت ان پر اس قدر برسا کہ لوگوں نے بارش کی زیادتی کی وجہ تکلیف سے آپ کو آگاہ کیا اس پر آپ نے یہ دعا کی ‘‘اَلّٰلھُمَّ حَوْالَیْنا وَلَاعَلَیْنَا۔’’کہ اے خدا! ہمارے اردگرد برسا اور ہم پر نہ برسا۔‘‘ اس پر بادل آپ کے سر چھٹ گئے اور اردگرد کے علاقوں کو سیراب کرنے لگے۔

(صحیح البخاری کتاب الاستسقاء باب اذا استشفع المشرکون بالمسلمین حدیث1020)

پتھر برسانے والوں کے حق میں دعا:۔

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ پر احدکے دن سے بھی زیادہ کوئی سخت دن آیا ہے؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے جو تمہاری قوم کی طرف سے پہنچا وہ تو پہنچا ہی لیکن ان کی جانب سے سب سے تکلیف دہ عَرَفَہ کا دن تھاجب میں ابن عبد یالیل بن عبد کلال کے پاس گیا ۔ جس چیز کا میں نے ارادہ کیا ہوا تھا اس کا انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں واپس اس حال میں لوٹا کہ میرے چہرے پر غم کے آثار تھے ۔ میں مسلسل چلتا رہا یہاں تک کہ قرن الثعالب مقام پر آپہنچا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس جگہ آکرمیں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بادل کے ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کیا ہوا ہے۔ اور اس میں جبرائیل ہے۔ جبرائیل نے مجھے پکارا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں قوم کی باتیں سن لیں اور ان کا ردعمل دیکھ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجاہے کہ آپ ان  (طائف والوں) کے بارہ  میں جو چاہیں اس کو حکم دیں۔ چنانچہ پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے پکارا ، مجھ پر سلامتی بھیجی اور عرض کی کہ آپ حکم فرمائیں۔ وہی ہوگا جو آپ چاہیں گے۔ اگر آپ چاہیں تو میں ان پر دونوں پہاڑ گرادوں۔ اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا کردے گا جو کہ خدائے واحد کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

(صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب اذا قال احدکم آمین والملائکہ…حدیث 3231)

زہر دینے والی عورت کو معاف فرمادیا:۔

حضرت انسؓ بن حارثؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نے نبی کریم ﷺ کو بکری کا گوشت دیا جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ آپ نے اس میں سے کچھ کھایا جب اس عورت کو حضورﷺ کے پاس لایا گیا تو صحابہ نے عرض کیا کَیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟ فرمایا کہ نہیں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ آپ کے تالو میں اس زہر کا اثر ہمیشہ باقی رہا۔

(صحیح البخاری کتاب الھبۃ وفقلھا باب قبول الھدیۃ من المشرکین حدیث نمبر 2617)

غیر مسلموں کے جنازہ کا احترام:۔

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سھل بن حُنَیف اور قیس بن سعد قادسیہ کے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو وہ دونوں کھڑے ہوگئے جب ان کو بتایا گیا کہ یہ ذمیوں میں سے ہے تو ان دونوں نے کہا کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ (احتراماً) کھڑے ہوگئے۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ‘‘اَلَیْسَتْ نَفْسًا’’       کیا وہ انسان نہیں تھا؟

(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب من قام لجنازۃ یہودی حدیث1312)

فتح مکہ کے موقع پر عظیم الشان عفو کا نمونہ:۔

فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے خانہ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا:-

اے قریش کے گروہ تم مجھ سے کس قسم کے سلوک کی امید رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا خیر کی۔ آپ ہمارے معزز بھائی ہیں اور ایک معزز بھائی کے بیٹے ہیں۔ اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ’’لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ‘‘ کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام صفحہ733 دخول الرسول ﷺ الحرم)

غیر مسلموں کو مسجد میں اپنے طریق پر عبادت کی اجازت دینا:۔

جب نجران کے عیسائی مدینہ میں حضرت رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو اس وقت آپ مسجد نبوی میں نماز عصر سے فارغ ہوئے تھے۔ یہ لوگ نہایت عمدہ لباس پہنے ہوئے تھے۔ جب ان کی نماز کا وقت ہوا تو وہ مسجدمیں ہی نماز ادا کرنے لگے۔ اس پر آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں نماز پڑھنے دو۔ انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔

(السیرۃ النبویۃلابن ہشام صفحہ396   امر السید والعاقب وذکر المباھلۃ )

باب چہارم: مستشرقین کا خراج تحسین

آنحضور ﷺ کے لائے ہوئے پیغام کی حقانیت اور آپ کاغیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک ہی ہے جس نے مستشرقین کو بھی آپکی مدح کرنے پر مجبور کردیاذیل میں اسکے دو نمونے پیش کر کے اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں۔وماتوفیقی الا باللہ العلی العظیم

ولیم میور(Willian Muir) کا خراج تحسین:۔

ایک مشہور مستشرق ولیم میور(Willian Muir) جس نے کئی غلط باتیں بھی حضورﷺ کے بارہ میں لکھیں ہیں اس کے باوجود وہ آپ کے اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا اور لکھتاہے:۔

And what have been the effects of the system which established by such instrumentality, Mahomet has left behind him? We may freely concede that it banished for ever many of the darker elements of superstition for ages shrouding the Penisula. Idolatry vanished before the battle-cry of Islam; the doctrine of the unity and infinite perfections of God, and of special all-prevading Providence, became a living principle in the hearts and lives of the followers of Mahomet, even as in his own. An absolute surrender and submission to the divin will (the idea conveyed by the very name of Islam ) was demanded as the first requirment of the religion. Nor are social virtues wanting. Brotherly love is inculcated towards all within the circle of the faith; infanticide is proscribed; orphans are to be protected, and slaves treated with consideration; intoxicating drinks are prohibited, Mahometanism many boast of a degree of temprance unknow to any other creed”

(The Life of Mahomet page:534 Benifits of Mahometanism)

یعنی اس بات کو بلا تامل تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ محمد ﷺ نے سالہا سال سے قائم شدہ توہمات کو ہمیشہ ہمیش کے لیے ختم کردیاجس کی تاریکی مدتوں سے جزیرہ نما عرب پر چھائی ہوئی تھی۔آپ نے بت پرستی کا خاتمہ کر کے خدا کا ازلی ابدی ہونا اور اسکی توحید کو قائم کیا۔ معاشرتی لحاظ سے بھی اسلام کی خوبیوں کا انکار نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ سے اخلاص کا پورا تعلق ،آپس میں بھائی چارہ، غلاموں سےحسن سلوک ، شراب سے اجتناب۔ یہ ساری ایسی باتیںہیں کہ جن سے دوسرے ناواقف ہیں۔

لیمرٹین (Lamartine)کا خراج عقید:۔

“Philosopher, orator, apostle, legislator, warrior, conqueror of ideas, restorer of rational dogmas; the founder of twenty terrestrial empires and of one spiritual empire, that is Muhammad. As regards all standards by which human greatness may be measured, we may ask, is there any man greater than he?”

(Lamartine, History of Turky, Page:276)

(بحوالہ اسوہ انسان کامل صفحہ 676-677۔نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی)

‘‘فلاسفر،مقرر،رسول،قانون دان،جنگجو ،ذہنوں کو فتح کرنے والا،حکمت کے اُصول قائم کرنے والا،بیس دنیوی سلطنتوں اور ایک روحانی سلطنت کا بانی یہ سب کچھ تھا محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)۔ وہ تمام معیارجن سے انسانی عظمت کا پتہ لگایا جاسکتا ہے، ان کے لحاظ سے ہم بجاطور پریہ سوال کرسکتے ہیں کیا اس (محمدؐ) سے عظیم تر کوئی انسان (دنیا میں) ہے۔’’

( اسوہ انسان کامل صفحہ 676-677۔نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی)

 

اللھم صل علی محمد و علی ال محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی ال ابراھیم انک حمید مجید

اللھم بارک علی محمد و علی ال محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی ال ابراھیم انک حمید مجید

میرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں۔۔۔

میرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں۔۔۔

خواب تو یہ ہیں کہ ساری  دنیا اسلام کی آغوش میں ہو ہر جان محمد ﷺ  کی غلامی کا دم بھرے ہرجگہ امن ہو رنگ و نسل کی تفریق مٹ جائےکسی کو بھوک سے مرنے کی فکر  نہ ہو کسی کو عزت لٹنے  کا ڈر نہ ہو

اور عذاب یہ ہیں۔۔۔

’’میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں‘‘ عزتیں لٹ رہی ہیں اور چور پل رہے ہیں۔۔

کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ کسی کے بم دھماکے میں جاں بحق ہونے کسی کے ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے کسی کے نسل پرستی پہ قتل ہونے یا کسی کے مذہب پرستی کی وجہ سے شہید ہونے کی خبر نہ سنیں جبکہ اسلام تو کہتا ہے کہ کسی ایک معصوم جان کا قتل گویا پوری انسانیت کا قتل ہے اور کسی ایک جان کو زندگی دینا پوری انسانیت کو زندگی دینا ہے۔۔۔

کسی سرکاری محکمہ کا کوئی ایک بھی کام ایسا نہیں جو رشوت دیئے بغیر کروایا جاسکے جبکہ پیارے آقا ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں ہی آگ میں ہیں۔۔۔

ہمارا شاید ہی کوئی شہر ہو جسے صفائی کی مثال کے طور پیش کیا جا سکے جبکہ صفائی تو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔۔۔

’’کوئی اور تو نہیں ہے پس ِخنجر آزمائی۔۔۔۔ ہمیں قتل ہو رہے ہیں، ہمیں قتل کر رہے ہیں‘‘

میرے ملک کے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں جبکہ قرآن تو کہتا ہے کہ مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔۔۔

’’رکھ پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑھی۔۔۔۔ جاتی تھی۔۔۔گھر کی دیواریں روتی تھیں جب دنیا میں تو آتی تھی‘‘

اسلام کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عورت کو ورثہ میں حقدار بنایا ہے اور میرے ملک میں میری سینکڑوں بہنوں کو صرف  ورثہ سے محروم کرنے کے لیے ان کی شادی قرآن سے کردی جاتی ہے اور وہ ساری عمر اپنے باپ کے گھر بیٹھی رہتی ہیں۔ گویا زندہ درگوری کی ایک نئی شکل نکل آئی ہے۔۔۔

علم حاصل کرنافرض ہے ہر مسلمان مرد پر بھی اور عورت پر بھی۔یہ فرمایا تھا میرے آقا محمدﷺ نے۔ لیکن میرے ملک میں اس بات پر لڑکیوں کو گولی مار دی جاتی ہے۔۔۔

            مسلمان کی تو تعریف ہی میرے مرشد  ﷺ نے یہ بتائی تھی کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور یہاں بقول شاعر یہ حال ہے کہ ‘‘جانے کون کسے مار دے کافر کہہ کر۔۔۔سارے کا سارا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے’’

یہ حال ہے ہمارا اور پھر کہتے ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو کیوں مانیں۔۔۔

مسلمان تو ہم ہیں لیکن مسلمانی ان میں ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم مغربی معاشرہ سے اتنے مرعوب کیوں ہیں؟ اتنے مرعوب کہ ان کے بارہ میں سوچتے ہوئے ان کے بارہ میں بات کرتے ہوئے یا اگر کبھی کہیں سرسری طور پر بھی ان کا ذکر آجائے  تو ایک احساس کمتری کی ایک احساس محرومی کی کیفیت ہمارے اندر خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ اپنے بارہ میں منفی سوچ اور منفی رویہ جبکہ ان کے لیے احساس برتری خود بخود اختیار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

اور یہ تاثر اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ عوام الناس تو درکنار مذہبی اور عوامی جلسے جلوسوں میں ان کے خلاف نعرے بلند کرنے والے ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی تحریکیں چلانے والے  بصد شوق اپنا گھربار بیچ کے اپنی جمع پونجی داؤ پہ لگا کے قرض لے کے اور بسا اوقات اپنی جان خطرہ میں ڈال کے کسی بھی مغربی ملک جانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آزاد شہری وہاں جا کے سالہا سال شہریت کے لیے ترستے ہیں۔

            آخر ایسا کیوں ہے؟

جبکہ ہم تو اس نبی کے ماننے ولے ہیں جسے خدا نے کہا تھا لَولَا کَ لَمَا خَلَقتُ الاَفلَاکَ۔ کہ اے محمد ﷺ اگر تیری پیدائش مقصود نہ ہوتی تو میں یہ جہاں ہی معرض وجود میں نہ لاتا۔

            ہم تو اس کی غلامی کا دم بھرتے ہیں جو سرکار دو جہان سردار اولین و آخرین شیفیع الوری رحمۃ للعلمین افضل الرسل خاتم النبیین ہے۔

 تو پھر ان کی غلامی کے لیے اتنی بیتابی کیوں؟ شاید اس لیے کہ۔۔۔۔

            صفائی نصف ایمان کی تعلیم تو ہمیں دی گئی ہے لیکن گلیاں محلے اور شہر ان کے صاف ہوتے ہیں۔

تکلیف دہ چیزیں راستوں سے ہٹانے کے تحریض تو ہم کو ہے لیکن راستے ان کے ان چیزوں سے پاک ہوتے ہیں۔

عورتوں کے حقوق تو اسلام نے قائم کیے ہیں لیکن نسوانی حقوق کے قوانین انہوں نے بنائے ہیں اور ان پر عمل پیرا وہ ہورہے ہیں۔

انسانیت کا شرف حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ قائم ہوا لیکن تحفظ انسانیت  کی فعال تنظیمیں انہوں نے بنائی ہوئی ہیں۔

حکم تو ہمیں فخرالانبیاء نے پیدائش سے وفات تک تعلیم حاصل کرنے کا دیا ہے لیکن خواندگی کی شرح ان کی زیادہ ہے۔

زمینی راز  دریافت کرنے کی ہدایت قرآن نے ہمیں دی ہے لیکن بہترین ماہرین آثار قدیمہ انکے ہیں۔

ستاروں کی حقیقت قرآن کریم نے بیان کی ہے لیکن علم فلکیات میں ثانی ان کا اس وقت کوئی نہیں ہے۔

ہمدردیء خلق کی تعلیم تو ہمیں ہے لیکن کسی بھی زلزلہ سیلاب یا طوفان کی تباہ کاریوں پر مالی امدادیں وہ کرتے ہیں۔

امن کے  پیامبر تو ہم ہیں لیکن امن و امان کی صورت حال بہتر وہاں ہے۔

ان سب باتوں کے بعد میں نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ ہماری قوم میں وہاں پہنچنے کی گو وہاں جا کے غلامی ہی کرنی پڑے  لو اس وجہ سے لگی ہوئی ہے کہ شاید۔۔۔۔۔

مسلمان تو ہم ہیں لیکن مسلمانی ان میں ہے

%d bloggers like this: